حکومت آزاد کشمیر کی عوام کے جائز مطالبات پر سنجیدہ رویہ اپنائیں، اپوزیشن اتحاد

اسلام آباد( آئی این پی ) تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کی مشاورتی نشست قائد حزب اختلاف اور اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی زیرِ صدارت منعقد ہوئی ۔جس میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس ، سابق سپیکر اسد قیصر ، سابق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر اور اتحاد کے ترجمان اخوانزادہ حسین یوسفزئی نے شرکت کی۔ اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان ملک کی موجودہ صورتحال پر نہایت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو طاقت کے نشے میں اندھا دھند اقدامات کرنے پر متنبہ کرتا ہے ۔ یہ اتحاد آزاد کشمیر میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دونوں جانب سے ہونے والے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتا ہے ۔ وہاں کی حکومت اور مقتدر قوتوں کو چاہیے کہ وہ آزاد کشمیر کی مخدوش امنِ عامہ اور عوام کے جائز مطالبات پر سنجیدہ رویہ اپنائیں اور تمام معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں ۔ عوام کی کسی بھی نمائندہ تنظیم پر پابندی لگانا مسئلے کا حل نہیں ہے اور نہ ہی طاقت کے بل بوتے پر عوامی رائے کو تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔ دشمن آزاد کشمیر کے حالات پر نظریں جمائے بیٹھا ہے، لہٰذا ایسے میں کوئی بھی غلط اقدام معاملات کو مزید بگاڑنے کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ اتحاد گلگت بلتستان کے انتخابات میں اپوزیشن، بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کو مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے جمہوری عمل سے باہر رکھنے کی کوششوں اور 2024ءکے عام انتخابات کے ‘ایکشن ری پلے’ پر شدید اظہارِ تاسف کرتا ہے اور انتخابی نتائج کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ جَب فیصلے کہیں اور ہونے ہیں ، تو پھر مُلک میں انتخابات محض تکلفاً کرانے کی کیا تُک باقی رہ جاتی ہے؟ اَب نہ ہی الیکشن کمیشن کی کوئی ساکھ باقی رِہ گئی ہے اور نہ ہی انتخابی عمل کی۔ یاد رہے کہ عوامی مقبولیت دلوں میں بنائی جاتی ہے، اسے چھینا یا چوری نہیں کیا جا سکتا ۔ جبری طور پر ہتھیائی گئی مقبولیت اور اقتدار کی عمارت ریت کے ڈھیر کے سوا کچھ نہیں ہوتی ۔ اتحاد بلوچستان میں امن و امان کی مخدوش صورتحال، اپوزیشن اتحاد کے سربراہ اور قائدِ حزب اختلاف محمود خان اچکزئی پر درج کی گئی جھوٹی اور مَن گھڑت ایف آئی آر ، سیاسی کارکنان کے خلاف طاقت کے استعمال، جبری گمشدگیوں سمیت ہر قسم کے کریک ڈاو¿ن اور عوام میں بڑھتے ہوئے احساسِ محرومی و عدم تحفظ کی شدید مذمت کرتا ہے ۔ انھی حالات کے پیش نظر، اپوزیشن اتحاد بی این پی اور اس کے سربراہ اختر جان مینگل کی جانب سے 10 جون کی شٹر ڈاو¿ن ہڑتال کی اپیل پر لبیک کہتے ہوئے اس کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتا ہے ۔حکومت کو بجٹ میں عام آدمی کے لیے صفر ریلیف اور مجوزہ ٹیکسوں کے انبار پر سخت متنبہ کیا جاتا ہے ۔ حکمران اپنی عیاشیوں اور بے جا سرکاری اخراجات میں فوری کٹوتی کریں اور آنے والے بجٹ کے نتیجے میں اٹھنے والے مہنگائی کے سیلاب کے آگے بند باندھیں ۔ موجودہ حکومتی نااہلی، کرپشن اور بدانتظامی کا نتیجہ آئی ایم ایف کی غلامی اور عوام پر ناقابل برداشت بوجھ کی صورت میں نکل رہا ہے ۔ معاشی اشاریوں کے ہیر پھیر اور لفاظی سے غریب عوام کا پیٹ نہیں بھرا جا سکتا ۔ تیل، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے سمیت گزشتہ برسوں میں صرف ٹیکسوں کی مد میں 19 کھرب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنا، حکومتی بے حسی کی داستان کا محض سرورق ہے۔ متوقع بجٹ میں شنید یہی ہے کہ مزدور اور کسان، تاجر اور تنخواہ دار کے لئیے کوئی ریلیف نہیں۔ اپوزیشن اتحاد مُلک میں جاری فسطائیت، سیاسی کارکنان پر جاری جبر اور میڈیا پر لگائی گئی غیر اعلانیہ سنسرشپ کی پرزور مذمت اور اِن فسطائی اقدامات کو آئین میں دئیے گئے سیاسی و شخصی حقوق اور جمہوری اقدار کی نفی سمجھتا ہے۔ جہاں یہ اتحاد عمران خان ، اُن کی اہلیہ ، شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر چیمہ اور دیگر اسیرانِ جمہوریت کی استقامت اور بہادری کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے وہی یہ مطالبہ بھی کرتا ہے کہ اِس مُلک کی عدلیہ ظلم کی اِس اندھیری رات میں انصاف کی شمع روشن کرے۔ جیل مینویل کے تحت اسیران کے حقوق ، اُن کی ملاقاتیں اور اُن کے مقدمات میں التواءانصاف کے نظام پر ایک سیاہ دھبہ ہیں۔ عدلیہ کی انصاف مہیا نہ کرنے اور ظلم کے راستہ نہ روکنے سے روگردانی کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں