امریکہ نے افغانستان میں 7 ارب کا اسلحہ چھوڑا، جس کے اثرات ہم پر پڑ رہے ہیں، آئی جی پولیس
کوئٹہ (این این آئی ) انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان محمد طاہر اور چیف کلکٹر کسٹمز مسعود احمد نے کہا ہے کہ بلوچستان میں قانونی تجارت کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹیں برداشت نہیں کی جائیں گی بزنس کمیونٹی اور ٹرانسپورٹرز کے تحفظ کےلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے،اس وقت ہم ہائبرڈ وار کا شکار ہیں دشمن کا مقابلہ کرنے کےلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان میں بلوچستان بزنس الائنس اینڈ ایکشن کمیٹی کے عہدیداران و ممبران کے ساتھ منعقدہ اجلاس کے دوران کیا۔اس سے قبل آئی جی پولیس کی جانب سے بلوچستان بزنس الائنس اینڈ ایکشن کمیٹی کے عہدیداران کو سیکورٹی صورتحال و دیگر بابت تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے پیٹرن ان چیف حاجی غلام فاروق خلجی نے کہا کہ ہم آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر اور چیف کلکٹر کسٹمز مسعود احمد کو خوش آمدید کہتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ملک اور صوبے میں تجارت کے فروغ اور بزنس کمیونٹی کو درپیش مشکلات و مسائل بابت کمیٹی اور متعلقہ حکام کے مابین مستقبل میں بھی رابطے جاری رہیں گے اور اس بابت فالو اپ اجلاس منعقد ہوں گے۔چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے صدر حاجی محمد ایوب مریانی،حاجی محمد نور شاہوانی، انجمن تاجران کے صدور عبد الرحیم کاکڑ،سید رحیم آغا،مائن اونرز ایسوسی ایشن کے بہروز ریکی،بس ایسوسی ایشن کے دولت لہڑی و دیگر نے بتایا کہ تفتان،نوشکی،کوئٹہ و دیگر میں امپورٹ و ایکسپورٹ کی ہزاروں گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں ہمیں اسے سلسلے میں سیکورٹی دی جائے ہم وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات و دیگر کے شکر گزار ہیں جن کی بدولت ہمارے چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل درجن سے زائد مطالبات پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔انہوں نے شہر میں ٹریفک مسائل،ہوائی فائرنگ ودیگر مسائل کی بھی نشاندہی کی۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس محمد طاہر کا کہنا تھا کہ بلوچستان بزنس الائنس اینڈ ایکشن کمیٹی کے عہدیداران کے گلے شکوے سر آنکھوں پر مگر ہم جس صورتحال سے دوچارہیں اس کے متعلق سب کو اندازہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے سال رواں کے دوران اب تک 2ہزار سے زائد انٹی لیجنس بیسڈ آپریشن کئے جا چکے ہیں جس کے دوران اب تک47 جوان جام شہادت نوش کر چکے ہیں جبکہ 164 دہشتگرد ہلاک کر دئیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دو سے تین ہفتے قبل بھی کوئٹہ میں بڑا سانحہ رونما ہوا اس لئے عوام کی جان و مال کے تحفظ اور سیکورٹی کےلئے کچھ ایسے اقدامات کرنے پڑتے ہیں جو تکلیف دہ بھی ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکنز نے افغانستان میں 30 سال کےلئے فورس بنائی مگر وہ 2سے تین دنوں تک نہیں لڑ سکے امریکہ نے افغانستان میں 7ارب کا اسلحہ بھی چھوڑ دیا ہے جس کے اثرات ہم پر بھی پڑ رہے ہیں اس وقت ہم ہائبرڈ وار کے شکار ہیں اب تو خواتین کو بھی دہشتگردی کےلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایگل فورس کو مزید بہتر کر رہے ہیں گزشتہ دنوں دہشتگردوں کی فائرنگ سے ایگل فورس کے 2اہلکار شہید بھی ہوئے تھے واردات میں ملوث ملزمان کا سراغ لگا کر انہیں عبرت کا نشان بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں ٹریفک بارے ٹریفک پولیس کے حکام کی جلد چیمبر کے عہدیداران و ممبران سے ملاقات کرائی جائے گی۔آئی جی پولیس کا کہنا تھا کہ ہوائی فائرنگ سے متعلق ایس او پیز بنا رہے ہیں چیمبر کے عہدیداران و ٹرانسپورٹرز اور تاجر ہوائی فائرنگ کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کریں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اور دیگر صوبوں میں بلوچستان کے ٹرانسپورٹرز،تاجر اور عوام کو تنگ کرنے سے متعلق معاملے کو وزارت داخلہ کے توسط سے اٹھائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ شخصیات سے پولیس اور اے ٹی ایف کے گارڈز واپس لئے جائیں اب تک ایک ہزار سے زائد اہلکاروں کو واپس لے لیا گیا ہےاس سلسلے میں بزنس کمیونٹی و دیگر کے سپورٹ کی ضرورت ہیں۔اس موقع پر چیف کلکٹر کسٹمز مسعود احمد کا کہنا تھا کہ بلیلی چیک پوسٹ کو ختم کردیا گیا ہے اگر اسمگلنگ کا خاتمہ ہو جائے تو کسٹمز چیک پوسٹوں کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ان کا کہنا تھا کہ کسٹمز نے پرائیویٹ لیبر رکھ لئے تھے جنہوں نے بعد میں چیکنگ بھی شروع کی تھی اس سلسلے میں شکایات آنے کے بعد کسٹمز کے چیک پوسٹوں سے پرائیویٹ لیبر کو ہٹا دیا گیا ہیں۔ان کا کہنا تھا اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی ضبطگی قانون کے مطابق کئے جا رہے ہیں اس بابت محکمہ کسٹمز کچھ نہیں کر سکتی اس سلسلے میں قانون کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ویلیو ایشن کے مسئلے کو نوٹ کرلیا گیا ہے تمام مسائل اس وقت حل ہوں گے جب ہمارے درمیان رابطے بحال رہے۔ان کا کہنا تھاکہ لکپاس کسٹم میں آتشزدگی بارے میں کلکٹر انفورسمنٹ کو چیمبر بھیجوں گا آپ انہیں اس بابت ایجنڈا تحریری صورت میں دیں۔


