شاہراہوں کے تحفظ کیلئے نئی فورس کا قیام، گاڑیوں کو سیکورٹی حصار میں منزل تک پہنچایا جائیگا، فوج کی مدد بھی لی جائیگی، جلائی گئی گاڑیوں کا معاوضہ، 55 چیک پوسٹیں مرحلہ وار ختم کی جائیں گی، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ بلوچستان
کوئٹہ (یو این اے) ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات نے کہا کہ تاجروں کے 33 مطالبات میں سے 15 پر اتفاق ہوچکا ہے جبکہ باقی معاملات پر بھی بات چیت جاری ہے۔ ان کے مطابق وفاقی نوعیت کے معاملات پر وزیراعظم سے رابطہ کیا گیا ہے اور وفاقی وزیر داخلہ اور چیئرمین ایف بی آر بجٹ کے بعد کوئٹہ آئیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ شاہراہوں پر سیکورٹی کے لیے نئی فورس قائم کی جارہی ہے جبکہ مال بردار گاڑیوں کے لیے انشورنس نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔ اس سلسلے میں اسٹیٹ لائف انشورنس سے بات چیت جاری ہے۔ بلوچستان حکومت بھی انشورنس میں اپنا حصہ ڈالے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ قومی شاہراہوں پر جلائی گئی گاڑیوں کے مالکان کو معاوضے کی ادائیگی کی جائے گی اس عمل کو تیز کیا جا رہا ہے، اسی طرح متاثرہ گاڑیوں کی واپسی کا وقت مہینوں سے کم کر کے ایک ہفتہ کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق سیکورٹی خدشات کے باعث پھنسنے والی گاڑیوں کو اب قافلوں کی صورت میں سیکورٹی حصار میں منزل تک پہنچایا جائے گا۔ جس میں ضرورت پڑنے پر پاکستان فوج کی مدد بھی لی جائے گی۔ آئی جی بلوچستان بھی تاجروں کے ساتھ سیکورٹی پلان پر مشاورت کریں گے۔ حمزہ شفقات کے مطابق بار بار اور غیر ضروری چیکنگ کی شکایات کا بھی ازالہ کیا جارہا ہے۔ قومی شاہراہوں پر قائم 55 چیک پوسٹوں کی تعداد مرحلہ وار کم کی جائے گی جبکہ بعض چوکیوں سے کسٹم اختیارات واپس لے کر انہیں صرف سیکورٹی تک محدود کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ سے باہر جانے والی چھوٹی اور نجی گاڑیوں کی لکپاس اور بلیلی چیک پوسٹوں پر چیکنگ اب نہیں کی جائے گی جبکہ مال بردار گاڑیوں کے لیے خصوصی کلیئرنس کارڈ سسٹم متعارف کرایا جائے گا تاکہ ایک بار چیکنگ کے بعد بار بار روکا نہ جائے۔ سندھ میں بلوچستان کے تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور مسافروں کو تنگ کیے جانے کی شکایات پر سندھ حکومت سے مسئلہ اٹھایا جائےگا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کوئٹہ ڈیرہ غازی خان شاہراہ پر رکھنی کے قریب بواٹہ چوکی پر بسوں اور گاڑیوں کی چیکنگ میں تین چار گھنٹے کی شکایت پر بھی غور کیا گیا۔ اب چیکنگ کو گھنٹوں سے کم کرکے 15 سے 20 منٹ تک لایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ روڈ نیٹ روک، گاڑیوں اور مائنز اینڈ منرل کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے خصوصی فورس قائم کی جارہی ہے جو اگلے چھے مہینے میں تیار ہوگی۔ اس وقت تک مال بردار گاڑیوں کو سیکورٹی حصار میں خصوصی قافلوں میں لے جایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی بجٹ سے پیسہ نکال کر سیکورٹی پر لگایا جارہا ہے۔ حکومت اور تاجر برادری اسمگلنگ کے خاتمے پر متفق ہیں، اسمگلنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاہم جائز اور قانونی کاروبار کو ہر قسم کی سہولت دی جائے گی۔


