مریم نواز کا پڑوسی صوبوں کو خطرہ قرار دینا افسوسناک، بلوچستان کو الزام نہیں حقوق درکار ہیں، عبداللہ درانی
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما عبداللہ درانی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اس بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب کو پڑوسی ممالک سے نہیں بلکہ پڑوسی صوبوں سے خطرہ ہے۔عبداللہ درانی نے کہا کہ اگر حساب اور ناانصافیوں کی فائل کھولنی ہی ہے تو پھر پورا اور دیانت داری کے ساتھ حساب کیا جائے۔ دہائیوں تک بلوچستان کی سوئی گیس سے پنجاب کے گھروں اور صنعتوں کو توانائی فراہم کی گئی، جبکہ خود بلوچستان کے اپنے بیشتر بڑے شہر اور علاقے آج بھی اس بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ برسوں تک جعلی بلوچستان ڈومیسائل کے ذریعے ہمارے نوجوانوں کے روزگار، تعلیمی مواقع اور آئینی حقوق پر ڈاکہ ڈالا جاتا رہا۔سی پیک اور دیگر ترقیاتی منصوبوں میں ناہمواری پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چینی تعاون اور سی پیک کی بنیاد گوادر اور بلوچستان کے ساحل کی بدولت رکھی گئی تھی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اربوں ڈالر کے چینی قرضوں اور فنڈز کا ایک بڑا حصہ، جس میں لاہور کی $1.6 ارب سے زائد لاگت کی اورنج لائن ٹرین بھی شامل ہے، پنجاب کے بنیادی ڈھانچے پر صرف کیا گیا۔ دوسری جانب بلوچستان، جس کے نام پر یہ راہداری منصوبہ بنا، آج بھی پینے کے صاف پانی، سڑکوں اور صحت کی سہولیات کے لیے ترستا ہے۔انہوں نے چھوٹے صوبوں کے تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کالا باغ ڈیم کا متنازع منصوبہ ہو یا پھر حال ہی میں دریائے سندھ سے چھ نئی نہریں نکال کر سندھ کے پانی پر اثر انداز ہونے کی کوشش، پنجاب کی بالادست پالیسیوں نے ہمیشہ وفاق کی اکائیوں میں اضطراب پیدا کیا۔ کالا باغ ڈیم سے کے پی کے کو نوشہرہ میں سیلاب کا ڈر تھا اور سندھ کو پانی کے بہاؤ میں کمی کا سامنا تھا، جبکہ چھ نہروں کے منصوبے پر سندھ کے عوام اور قیادت کے شدید احتجاج کے بعد ہی روک لگی۔پی پی پی رہنما نے کہا کہ اگر سیکیورٹی کے حوالے سے بات کی جائے تو پنجاب کی سرحدیں بھی بھارت سے ملتی ہیں، لیکن بدامنی، دہشت گردی اور قربانیوں کا سب سے بھاری بوجھ مسلسل بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پڑوسی صوبوں کو خطرہ قرار دینے کے بجائے نون لیگ کی قیادت کو ان محرومیوں کا حساب کرنا چاہیے جنہوں نے آج عوام کو یہ سوال کرنے پر مجبور کیا ہے کہ اگر ان کے وسائل، ساحل اور جفا کشی سب کے لیے ہے، تو ان کے اپنے حقوق کس کے لیے ہیں؟


