خضدار،جعلی نمبروں سے خضدار پریس کلب رجسٹرڈ کے خلاف مہم جوئی کی مذمت آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی اور وکلاءبرادری ودیگرکا صحافیوں سے اظہار یکجہتی

خضدار(بیورورپورٹ)سعودیہ کے جعلی واٹس ایپ نمبروں سے خضدار پریس کلب اور صحافیوں کے خلاف جاری کردار کشی اور ہتک آمیز مہم جوئی کے واقعے کے بعد خضدار میں صحافتی برادری سے اظہار یکجہتی کے لیے ایک اہم اجلاس خضدار پریس کلب میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی خضداربلوچستان بار ایسوسی ایشن اور مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے رہنماو¿ں نے پریس کلب کا دورہ کیا وفد کی قیادت آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی خضدار کے چیئرمین بشیر احمد جتک اور بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے ممبر سینیئر قانون دان خالد محمود ایڈوکیٹ نے کی وفد میں آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے سابق چیئرمین عبدالحمید بلوچ، جنرل سیکریٹری قدیر قادرزہری، جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا محمد اسحاق شاہوانی، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما و ڈسٹرکٹ کونسل ممبر جمعہ خان شکرانی انجمن تاجران خضدار کے صدر حافظ حمیداللہ مینگل، نیشنل پارٹی کے سینیئر رہنما و سماجی کارکن میر اشرف علی مینگل بی این پی کے رہنما سفر خان مینگل ڈاکٹر حضور بخش زہری اور جے ٹی آئی کے صوبائی رہنما بلال احمد مردوئی سمیت دیگر سیاسی و سماجی رہنما شریک تھے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رہنماو¿ں نے کہا کہ خضدار پریس کلب پورے شہر کے لیے ایک ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی اس علاقے میں حق و سچ کی بات آئی ہے خضدار پریس کلب نے قربانیاں دی ہیں، یہاں کے صحافیوں نے شہادت تک پیش کی ہے۔ آج سعودی عرب کے فیک نمبروں کے ذریعے جو گھناو¿نی مہم چلا رہے ہیں وہ ناقابل برداشت اور قابل مذمت ہےصحافیوں نے کہا کہ ایک نامعلوم واٹس ایپ نمبر سے صحافیوں کی جانی مالی اور عزت نفس کے خلاف جو دشمنی کی جا رہی تھی اس کے پیچھے چھپے چہرے اب بے نقاب ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کو ہمارے سماج کو پہچاننا ہوگا اور انہیں نوشتہ دیوار پڑھانا ہوگا۔ فیک انٹرنیشنل نمبروں سے ہراسانی دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے اور اس سلسلے خضدار پولیس و انتظامیہ کو ہر صورت میں اقدام اٹھانا ہوگاسینیئر وکیل خالد محمود ایڈوکیٹ نے اس موقع پر کہا کہ میں اور میری قانونی ٹیم مکمل طور پر خضدار پریس کلب کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فیک نمبروں سے ہراساں کرنا، کردار کشی اور دھمکیاں سائبر کرائم کے زمرے میں آتی ہیں اگر اس حوالے سے کسی بھی قانونی کارروائی، ایف آئی اے میں درخواست یا عدالت سے رجوع کرنے کی ضرورت پڑی تو وکلائ برادری ہر سطح پر صحافیوں کو قانونی معاونت فراہم کرے گی میر اشرف علی مینگل کا کہنا تھا یہ حرکت میرے ساتھ بھی ہوا اور مجھے احساس ہے کہ اس سے کتنا دکھ پہنچتا ہے یہ ایک نیچ اور گھٹیا حرکت ہے اس طرح کے گروہ کی حوصلہ شکنی کرنے کی ضرورت ہے اور اس معاملے ہر سب کو متفق اور متحد ہو کر اس کی مذمت کرنی ہے۔ بی این پی کے رہنما سفر خان مینگل نے کہا کہ ایسی گھٹیا حرکات سے نہ صرف معاشرے کے امن کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ علاقے کی پرانی روایات بھی پامال ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ماحول میں کوئی بھی ذی شعور انسان ایسی سوچ نہیں رکھ سکتا۔ ماضی میں اس طرح کے حرکات کو روکا نہیں گیا تو آج نظر سامنے آیاہم صحافی برادری کے ساتھ ہیں اور آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی بھرپور انداز میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے میدان میں ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما جمعہ خان شکرانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ فیک نمبروں کے پیچھے چھپ کر صحافیوں سے دشمنی کر رہے ہیں وہ اس علاقے کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں، ان پر حملہ پورے معاشرے پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ہم اس مذموم مہم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں دوسری جانب خضدار پریس کلب کے صدر عبداللہ شاہوانی، سینیئر نائب صدر منیراحمد زہری یونس بلوچ، سابق جنرل سیکریٹری اقبال مینگل، ندیم گرگناڑی، عبدالواحد شاہوانی، محمد خان ساسولی عبدالجبار حسنی، مولانا فضل الرحمن مینگل، عبدالرزاق زہری، مرتضیٰ بلوچ، عامر باجوئی، وسیم بلوچ اور خورشید بلوچ سمیت دیگر صحافی موجود تھے۔ جنہوں نے آل پارٹیز اور وکلائ برادری کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پرخضدار پریس کلب کے عہدیدار و ممبران نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ شہر کی سیاسی سماجی اور وکلائ برادری نے ہماری آواز پر لبیک کہا۔ انہوں نے کہا کہ سعودیہ کے فیک نمبروں سے جو پروپیگنڈہ کیا گیا وہ دراصل صحافت کو دبانے کی ایک ناکام کوشش تھی، لیکن آج کے اس اظہار یکجہتی نے ثابت کر دیا کہ خضدار کے صحافی تنہا نہیں ہیں آخر میں مشترکہ اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ ضلعی انتظامیہ، ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ اور دیگر متعلقہ ادارے فیک نمبروں کے ذریعے خضدار پریس کلب کے خلاف مہم جوئی کرنے والے عناصر کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائیں تاکہ آئندہ کوئی بھی شر پسند صحافیوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی جرات نہ کر سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں