آواران، تحصیل جھائو گجرو میں بی ایچ یو کی عمارت 3 سال سے التوا کا شکار، عوام بنیادی طبی سہولیات سے محروم
آواران(عبدالوحید )آواران کی تحصیل جھائو کے علاقے گجرو میں زیر تعمیر بنیادی صحت مرکز (بی ایچ یو) کا کام گزشتہ تین سال سے مکمل طور پر تعطل کا شکار ہے۔ ٹھیکیدار کی جانب سے کام ادھورا چھوڑ کر چلے جانے کی وجہ سے علاقے کی ایک بڑی آبادی بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہو کر رہ گئی ہے۔موقع کی صورتحال اور تصاویر سے واضح ہوتا ہے کہ ہسپتال کی عمارت ابتدائی تعمیری مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکی۔عمارت کی صرف چند ابتدائی بنیادیں اور بلاکس کی دیواریں ہی کھڑی کی گئی ہیں۔چھت اور مکمل ڈھانچہ نہ بننے کے باعث کھلے آسمان تلے پڑے لوہے کے سرئیے اور کنکریٹ کے بلاکس زنگ اور موسمی اثرات کی وجہ سے کارآمد نہیں رہے۔ زیر تعمیر جگہ اب جھاڑیوں اور ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہے، جو سرکاری فنڈز کے بے دردی سے ضیاع کی نشاندہی کرتی ہے۔مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں ہسپتال کی عدم دستیابی کے باعث انہیں سخت تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ زچگی کے مسائل اور بچوں کی بیماریوں میں مریضوں کو میلوں دور دوسرے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے غریب دیہی عوام پر شدید مالی و جانی بوجھ پڑ رہا ہے۔اہلیانِ گجرو نے اعلیٰ حکام اور محکمہ صحت سے مندرجہ ذیل اقدامات کا فوری مطالبہ کیا ہے۔ تعمیری کام ادھورا چھوڑ کر غائب ہونے والے ٹھیکیدار کے خلاف سخت قانونی و انتظامی کارروائی کی جائے۔ منصوبے کی ازسرنو نشاندہی کر کے تعمیری کام فوری طور پر بحال کیا جائے۔ عمارت کی تکمیل کے بعد عملہ اور ادویات تعینات کر کے بی ایچ یو کو بلا تاخیر فعال بنایا جائے تاکہ مقامی آبادی کی مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔


