وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں اسمارٹ لاک ڈاون کی تجویز زیر غور نہیں آئی، وفاقی وزیر
وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے کہا ہے کہ نائب وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز زیر غور نہیں آئی اور نہ ہی اسلام آباد بند ہونے جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کی بات نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس میں تبادلہ خیال نہیں ہوا اور نہ ایسی کوئی بات میرے علم میں ہےانہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم کی زیرصدارت پیٹرولیم مصنوعات پر بحث ہوئی ہے اور تین مہینوں کے لیے تھری ویلر، 800 سی سی گاڑی کو ٹارگٹڈ سبسڈی دی جا رہی ہے اور اس حوالے سے تمام عوامی نمائندوں کی ڈیوٹی لگا رہے ہیں کہ وہ لوگوں کو آگاہی فراہم کریں۔قبل ازیں نجی میڈیا کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ حکومتی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور قومی اخراجات میں کمی لانے کے لیے ہفتے میں 4 دن کام اور 3 دن چھٹی کی تجویز زیرغور ہے، جس کا اطلاق سرکاری اور نجی سطح پر دفاتر اور تعلیمی اداروں پر ہوگا۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور کا کہنا تھا کہ اسلام آباد بند ہونے نہیں جا رہا لیکن ستمبر کے مہینے میں تین مارچز کی باتیں ہو رہی ہیں، سب سے زیادہ پرتشدد اور انتشار سے بھرا مارچ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا ہوتا ہے۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کے تحت انتظامیہ کو ہدایات ہیں کہ شہریوں کی آمد و رفت کو بحال رکھنا ہے، عوامی مقامات پر کسی بھی جماعت کے لیڈرز کو قبضہ نہیں کرنے دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اپنی ڈیوٹی کر رہی ہے، سوچنا ان کو چاہیے جو بار بار اسلام آباد پر چڑھائی کرتے ہیں، نام پرامن مارچ کا دیتے ہیں اور پرتشدد مظاہرے کرتے ہیں، اگر وہ سمجھتے ہیں کہ نظام بدلنے آرہے ہیں تو کیا ان کی تشریف سے نظام بدل جائے گا۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے دروازے پر بیل دے کر کہیں گے استعفیٰ دیں تو کیا وزیراعظم استعفیٰ دے دیں گے، وزیراعظم نے کئی دفعہ مذاکرات کی دعوت دی ہے۔


