سرفراز بگٹی اور انوارالحق کو اخترجان مینگل فوبیا ہو چکا ہے ، بی این پی
کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ سرفراز بگٹی اور انوارالحق کی جانب سے بلوچستان میں ترقی خوشحالی اور عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے کیے جانے والے جھوٹے دعوے اب عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں یہ وہ سیاسی عناصر ہیں جو وقت اور مفادات کے مطابق جماعتیں اور سیاسی نظریات تبدیل کرتے رہے ہیں اور جن کی سیاست کسی مستقل نظریاتی جدوجہد کے بجائے اقتدار اور ذاتی مفادات کے گرد گھومتی رہی ہے آج ان کے ساتھ کھڑے جنگی منافع خور اور مفاد پرست عناصر بھی سیاسی بیگانگی کا شکار ہیں کیونکہ انہیں قائد سردار اختر جان مینگل اور بلوچستان نیشنل پارٹی کو حاصل ہونے والی وسیع عوامی و سیاسی حمایت ہضم نہیں ہو رہی اور انہیں اختر جان مینگل فوبیا ہو چکا ہے۔ بلوچستان میں تمام قومی جمہوری اور سیاسی جماعتیں، سیاسی و سماجی حلقے، اہلِ قلم دانشور اساتذہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بی این پی کے اصولی مو¿قف اور قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت و جدوجہد کے ساتھ کھڑی ہیں، جبکہ مخالفین کی جھوٹی بیانیہ سازی اب عوام میں اپنی حیثیت کھو چکی ہے۔ بلوچستان میں سیاسی گھٹن بدامنی آپریشنز، لاپتہ افراد اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث پیدا ہونے والی نفرت اور بے چینی کو حکمران سمجھنے سے قاصر ہیں حالانکہ ان کی پالیسیوں نے عوام اور حکمرانوں کے درمیان خلیج مزید گہری کر دی ہے بلوچستان نیشنل پارٹی کے چار قومی اسمبلی کے ووٹوں کو خرید و فروخت یا کسی ذاتی مفاد کا معاملہ قرار دینا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے پارٹی کے مطابق جنرل باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے معاملے کے دوران انہی اصولی سیاسی فیصلوں کے نتیجے میں ساڑھے چار سو سے پانچ سو کے قریب بلوچ لاپتہ افراد اپنے گھروں کو واپس پہنچے اور بلوچ ماو¿ں بہنوں کے آنسو پونچھے گئے۔ کراچی پریس کلب میں عظیم بلوچ رہبر راہشون سردار عطااللہ خان مینگل کے تاریخ ساز تعزیتی ریفرنس میں سیاسی و سماجی حلقوں اہلِ قلم دانشوروں اور عوام کی بھرپور شرکت نے بھی ثابت کیا کہ بلوچ عوام سردار عطااللہ خان مینگل کے فکر و فلسفے، بلوچستان نیشنل پارٹی اور قائد سردار اختر جان مینگل کی اصولی سیاست کے ساتھ کھڑے ہیں بلوچستان نیشنل پارٹی واضح کرتی ہے کہ پارٹی اپنی قومی، جمہوری اور اصولی جدوجہد کو کسی مصلحت یا مفاد کے بغیر اسی ثابت قدمی کے ساتھ جاری رکھے گی بیان کے آخر میں کہا گیا کہ علی مدد جتک کو یہ علم نہیں کہ کہ اس دور میں کتنے قتل و غارت گری اور رہی بلوچستان اپنے تاریخ کے بدترین ظلم و زیادتیوں کے دور سے گزر رہا ہے پر علی مدد جتک کو ان باتوں کا علم نہیں ہے یا یہ خود سمجھنا نہیں چاہتے ہیں حالات کو


