بے روزگار ی اور میرٹ کی پامالی

تحریر: حضور بخش قادر

پنجگور : بے روزگار ی میں اضافہ نوجوان اور ایج ہوکر مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں میرٹ کو پامال کیا جارہاہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اعلان کیا تھا کہ بلوچستان میں اب بھرتیاں میرٹ کی بنیادوں پر ہون گے کوئی سرکاری نوکری اب فروخت نہیں ہوگا مگر مخص یہ ان نوجوانوں کو طفل تسلیاں دینے کے سوا کچھ بھی نہیں تھا وزراء اور ایم پی ایز نے مختلف محکموں میں سرکار ی نوکریوں کے خرید وفروخت کا انکشافات کئے جس کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان نے بیوروکریسی سے دو بارہ حلف لیا کہ سرکاری ملازمتوں کی خرید وفروخت نہ کیا جائے اور میڈیا کے ذریعے ہہت سے محکموں کے پوسٹوں کی منسوخی کے احکامات جاری کیے گئے گزشتہ سالوں محکمہ ایجوکیشن کی بھرتیوں میں بھی بڑے پیمانے پر اقربا پروری اور بے قاعدگیاں سامنے آگئے تھے یونین کونسل کی بجائے ڈسٹرکٹ لیول پر بھرتی کیا گیا جبکہ کاغذات جمع کرنے کے دوران بعض نوجوانوں کے کاغذات اس لئے وصول نہیں کئے گئے کہ یہ پوسٹ یونین کونسل وائیز ہیں دوسری جانب سیکنڈ ڈویژن اُمیدواروں کو کاغزات بھی مسترد کئے گئے تھے مگر دوسری جانب اقربا پروری اور بے قاعدگیاں کرکے اپنے من پسند افراد کو محکمہ تعلیم میں بھرتی کرکے بہت سے بے روز گار نوجوانوں کی حق تلفی کے سوا کچھ بھی نہیں تھا جو بار بار ملازمت کے لئے مختلف خالی پوسٹوں پر کاغذات درخواستیں جمع کرنے کے باوجود ان کی تعیناتی اس لئے نہیں ہوئے کیونکہ ان کے پاس شفارش نہیں ایک نوجوان نے بتایا کہ میں نے ہر محکمے کے خالی آسامیاں پر درخواستیں جمع کئے مگر ہر دفعہ مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملا ھے اب میں نے درخواستیں جمع کرنا بھی چھوڑ دیا ہے کیونکہ عام غریب بے روزگار نوجوانوں سے زیادہ جیالوں کو ترجیح دی جاتی ہے اور ہمارے لئے تعلیمی اسناد کو نذر آتش کرنے کے سوا کچھ نہیں بچھا ھے انہوں نے بتایا کہ اپنے تعلیمی اسناد کو نذرِ آتش کرکے کوئی اور راہ اختیار کریں یا خؤد کشی کریں مگر خود کشی بھی گناہ ہے جب تک یہ جیالے پرستی ذاتی پسند وناپسند اور کنبہ پرستی ھے ہم جیسے غریب اور بغیر سفارش والے کبھی بھی بھرتی نہ ہو سکیں گے کیونکہ یہاں میرٹ نہیں صرفِ اور صرف جیالوں کو نوازنے کا نام ہے اور اب ہمارے اور ایج ہونے کے لیے ایک سال رہ گیا ہے پانچ سال تم اور پانچ سال ہم اپنے جیالوں کو بھرتی کرنے والی پالیسی چل رہی ہے ایک نوجوان نے بتایا کہ میں نے پوسٹ گریجویٹ کیا ھے میں نے کلرک کے پوسٹ کے لئے دس بار مختلف محکموں کے خالی آسامیوں کے لیے دوخواست جمع کئے مگر ہر بار نظر انداز رہا اور کئی بار لیویز فورس کے لئے اپلائی کی ھے مگر ہر بار ناکام رہا کیونکہ یہاں نہ میرٹ ھے اور نہ سرکاری پوسٹ ہیں لسٹ کہیں اور سے بن کر آتے ہیں کوئی انٹرویو دے یا نہ دے جس کو سلیکٹ کرنا ھے کرینگے آیک نوجوان نے بتایا کہ جب ریٹائرڈ بھرتے ہوسکتےہیں تو ہم کیوں نہیں کیونکہ بات شمولیت اور جیالے پرستی ذاتی پسند اور ناپسند کی ھے ایک نوجوان نے بتایا کہ جب تک جیالا پرستی ذاتی پسند وناپسند کا سلسلہ جاری ہے عام غریب بغیر سفارش والے درخواستیں جمع کرنے کی زحمت بھی نہ کریں کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ یہ ملازمت سرکاری نہیں ذاتی ہوگئے ہیں جس کو چائے بھرتی کریں اسی وجہ سے محکمے تباہ حالی کا شکار ہو گئے ہیں اور اگر مختلف محکموں میں بھرتیوں کو دیکھیں اور کارکردگی کو خود اندازہ ہوگا بے روز گار نوجوانوں نے اپیل کی ھے کہ مختلف محکموں میں ہونے والے بھرتیوں کی تحقیقات کرکے اب میرٹ پر بھرتیاں شروع کی جائیں کیونکہ پانچ سال تم بھرتی کرو اور پانچ سال ہم کرینگے کی پالیسی نے نوجوانوں کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا ھے اگر یہ ملازمت سرکاری ہیں تو سب کا حق بنتا ہے اگر ذاتی ہیں تو کسی کا حق بنتا بھی نہیں مگر ایسا لگتا ہے کہ یہ سرکاری ملازمت ذاتی ہیں سیاسی لوگ برملا اعتراف کرتے ہیں کہ ہم نے فلاں فلاں کو سرکاری ملازمت دی ھے یہی تاثر دیا جاتا ہے کہ ھم نے فلانی فلانی گہمامی کو نوکری دی ھے سرکاری ملازمت بے روز گار نوجوانوں کا حق ھے مگر اگر اسی طرح میرٹ کی پامالی جاری رہا تو عام غریب نوجوان اپنے قسمت سے مایوسی کے سوا کیا کرسکتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں