اے ایس ایف اہلکاروں کا مبینہ نامناسب رویہ، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے تحریکِ استحقاق پیش کر دی

اسلام آباد/کوئٹہ (آئی این پی) چیئرپرسن سینٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے ای کے 601 (EK-601) کی چیک اِن کارروائی کے دوران ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کے اہلکاروں کے مبینہ نامناسب رویے کے خلاف سینیٹ کی کمیٹی برائے قواعد و ضوابط و استحقاقات کے سامنے تحریکِ استحقاق پیش کر دی۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے واضح کیا کہ کوئی بھی سرکاری عہدیدار قانون، احتساب اور پارلیمان و اس کے اراکین کے احترام سے بالاتر نہیں ہے۔ سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران ذمہ دارانہ رویہ، شائستگی اور قانون کی پاسداری ہر اہلکار کی بنیادی ذمہ داری ہے، جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ای کے 601 کی چیک اِن کارروائی کے دوران اے ایس ایف اہلکاروں کے مبینہ طرزِ عمل سے متعلق معاملے کی سنجیدگی سے جانچ پڑتال ہونی چاہیے تاکہ حقائق سامنے آئیں اور ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔ ایسے واقعات کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کرنا مناسب نہیں، کیونکہ سرکاری اداروں پر عوام کا اعتماد قانون کی یکساں عمل داری اور اہلکاروں کے ذمہ دارانہ طرزِ عمل سے وابستہ ہے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس معاملے کی پیروی جاری رکھیں گی تاکہ جواب دہی کو یقینی بنایا جا سکے اور ہر شہری کی عزت و وقار کا تحفظ ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی سرکاری عہدے یا منصب کو قانون سے استثنیٰ حاصل نہیں اور تمام متعلقہ افراد کو اپنے طرزِ عمل کے حوالے سے جواب دہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمان اور اس کے اراکین کے استحقاقات کا احترام جمہوری اداروں کے وقار اور مو¿ثر نظامِ حکمرانی کے لیے ضروری ہے۔ قانون کی بالادستی ادارہ جاتی ذمہ داری اور شہریوں کے ساتھ باعزت سلوک کو یقینی بنانا تمام سرکاری اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اس معاملے کو متعلقہ فورم پر اٹھاتی رہیں گی یہاں تک کہ جواب دہی اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ضروری اقدامات کیے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں