آئینی ترامیم اور عدلیہ کی آزادی پر تشویش: جسٹس محسن اختر کیانی نے استعفا دے دیا
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا ہے ،جسٹس محسن اختر کیانی، جن کا تبادلہ حال ہی میں لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بنچ میں کیا گیا تھا اور جن کی ریٹائرمنٹ 11 فروری 2032 کو متوقع تھی، انہوں نے اپنے استعفے میں ذاتی وجوہات، صحت کے مسائل اور اپنے ضمیر کی آواز کو اس فیصلے کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔استعفے کے متن میں جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے عدالتی کیریئر کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہوں نے اپنے دورِ ملازمت میں 23 ہزار سے زائد کیسز کے فیصلے کیے۔ تاہم، انہوں نے موجودہ عدالتی نظام میں آئینی ترامیم اور دیگر پیش رفتوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم نے عدالت کی آزادی کو بری طرح متاثر کیا ہے، جبکہ ججز کی تقرری کے عمل میں مداخلت عدالتی نظام کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ان تمام اقدامات کے باعث انصاف کے عمل پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے اور عام سائلین کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ انصاف کے متلاشی افراد کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ان کا ضمیر اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ موجودہ حالات میں بطور جج اپنے فرائض جاری رکھیں۔ وہ اب وکالت کے شعبے میں واپس آ کر عوام کے حقوق کے تحفظ اور قانونی شعور کو اجاگر کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔اپریل 2026 میں جوڈیشل کمیشن کے اکثریتی فیصلے کے تحت انہیں اسلام آباد ہائیکورٹ سے لاہور ہائیکورٹ منتقل کر دیا گیا تھا، جس سے ان کی سینیارٹی کی فہرست پر اثر پڑا اور وہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی دوسری پوزیشن سے لاہور ہائیکورٹ کی سینیارٹی لسٹ میں 12ویں نمبر پر آ گئے۔لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ میں خدمات کی انجام دہی کے دوران انہوں نے بالآخر اپنے عہدے سے استعفا دے کر طویل عدالتی سفر کا خاتمہ کر دیا۔


