بلوچستان کے سرکاری کھاتوں میں 7ارب روپے سے زائد کا فرق، محکمہ خزانہ کو ڈیڑھ ماہ میں آڈٹ اعتراضات نمٹانے کی ہدایت

سرکاری اسکالرشپس پر بیرون ملک جانے والے 63میں سے صرف 12 اسکالرز واپس آئے،پبلک اکانٹس کمیٹی کو بریفنگ
کوئٹہ (آن لائن) بلوچستان صوبائی اسمبلی کی پبلک اکا¶نٹس کمیٹی (PAC) کا اجلاس اسمبلی کی نئی عمارت میں واقع کمیٹی روم نمر 43 میں منعقد ہوا، جو نئی عمارت میں کمیٹی کا پہلا اجلاس تھا۔ اجلاس کے انتظامات خوش اسلوبی سے مکمل کیے گئے۔ اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین اصغر علی ترین نے کی، جبکہ کمیٹی کے اراکین رحمت صالح بلوچ، ولی محمد نورزئی اور زابد علی ریکی اجلاس میں شریک تھے۔اجلاس کے پہلے سیشن میں اکا¶نٹنٹ جنرل بلوچستان کی سرٹیفکیشن آڈٹ رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے آغاز پر سیکرٹری خزانہ کی عدم موجودگی پر چیئرمین اور اراکین کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا۔ رکن کمیٹی رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ سرٹیفکیشن آڈٹ جیسے اہم مالیاتی معاملات کے اجلاس میں سیکرٹری خزانہ کی موجودگی ضروری ہے تاکہ متعلقہ امور پر براہ راست وضاحت اور م¶ثر پیش رفت ممکن ہو سکے۔ بعد ازاں سیکرٹری خزانہ محمد جہانگیر خان بھی اجلاس میں شریک ہوئے اور کمیٹی کو متعلقہ مالیاتی امور پر بریفنگ دی۔اجلاس میں سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، اکا¶نٹنٹ جنرل بلوچستان نصراللہ جان، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ شجاع علی، سیکرٹری خزانہ محمد جہانگیر کاکڑ، اسپیشل سیکرٹری پبلک اکا¶نٹس کمیٹی و سوالات سراج لہڑی اور ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔سرٹیفکیشن آڈٹ کے دوران سرکاری رقوم کے کیش بیلنس اور کتابی حسابات (Cash and Book Balances) میں فرق اور متعلقہ بینکوں کے ساتھ ریکارڈ کی عدم مطابقت کا معاملہ زیر بحث آیا۔ چیئرمین کمیٹی نے اس صورتحال پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری مالیاتی ریکارڈ کی بروقت (Reconcile) نہ ہونا محکمہ خزانہ کی کارکردگی اور مالیاتی نگرانی کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔اراکین کمیٹی نے نشاندہی کی کہ محکمہ خزانہ کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور نیشنل بینک آف پاکستان کے ساتھ اپنے تمام مالیاتی کھاتوں اور رقوم کی باقاعدگی سے Reconciliation کو یقینی بنانا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ گزشتہ کئی سالوں سے زیر التوا اس اہم معاملے کا ذمہ دار کون ہے اور اب تک اس کے حل کے لیے م¶ثر اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ 30 جون 2023ءتک اسٹیٹ بینک ہیڈکوارٹرز کے ریکارڈ اور مالیاتی گوشواروں میں کھاتوں کے بیلنس میں نمایاں فرق موجود تھا۔ مالیاتی گوشواروں کے مطابق متعلقہ کھاتوں کا بیلنس 23 ارب 6 کروڑ روپے سے زائد جبکہ اسٹیٹ بینک کے ریکارڈ کے مطابق تقریباً 15 ارب 29 کروڑ روپے تھا، جس کے نتیجے میں تقریباً 7 ارب 71 کروڑ روپے کا فرق سامنے آیا۔ اس فرق کی بنیادی وجوہات میں ریکارڈ کی عدم دیکھ بھال، غیر ادا شدہ چیکس کی پوسٹنگ نہ ہونا اور اسٹیٹ بینک و نیشنل بینک کے ساتھ اکا¶نٹس کی بروقت (Reconcile) نہ کرنا شامل ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ مالیاتی وصولیوں اور ادائیگیوں کے حسابات کی باقاعدہ (Reconciliation) کے لیے ایک م¶ثر اور مستقل نظام قائم کیا جائے، جبکہ اس مقصد کے لیے متعلقہ شعبے کو فعال بنایا جائے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے اختلافات پیدا نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری خزانے سے متعلق معاملات میں غفلت اور انتظامی کمزوریوں کی کوئی گنجائش نہیں اور تمام متعلقہ محکموں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی۔سیکرٹری خزانہ محمد جہانگیر کاکڑ نے اس موقع پر تسلیم کیا کہ مالیاتی حسابات کی ماہانہ بنیادوں پر (Reconcile) کرنا محکمہ خزانہ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اکا¶نٹنٹ جنرل، اسٹیٹ بینک اور نیشنل بینک کے ساتھ مل کر ہر ضلع کی سطح پر ریکارڈ کے Reconciliation کا عمل مکمل کیا جائے گا تاکہ تمام مالیاتی اختلافات کو دور کیا جا سکے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ گزشتہ سال بھی کمیٹی کی کوششوں سے بھاری رقوم کی نشاندہی اور سرکاری خزانے میں جمع کرانے کے اقدامات کیے گئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کمیٹی عوامی وسائل کے تحفظ اور سرکاری مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ اراکین پی اے سی زابد علی ریکی، ولی محمد نورزئی اور رحمت بلوچ نے تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ افسوس ہے محکمہ خزانہ اور دیگر محکمے پی اے سی کے احکمات پر عملدرآمد نہیں کرتے ہیں۔ اصغر ترین نے کہا کہ بحیثیت چیئرمین اور اراکین کمیٹی یہ ہماری بنیادی ذمہ داری ہے کہ سرکاری وسائل کے استعمال، حسابات اور آڈٹ اعتراضات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور قومی خزانے کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کا ازالہ یقینی بنایا جائے۔چیئرمین نے تمام متعلقہ محکموں اور حکام کو ہدایت کی کہ آڈٹ پیراز اور ان پر عملدرآمد سے متعلق تمام اعتراضات اور زیر التواءامور ڈیڑھ ماہ کے اندر مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ مدت میں تعمیل نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ ذمہ داران کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس کے دوسرے سیشن میں بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (BUITEMS) سے متعلق آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ اور یونیورسٹی کے دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے۔یونیورسٹی سے متعلق پہلے آڈٹ پیرے میں اسکالرشپس کے معاہدوں کی خلاف ورزی کے باعث 11 کروڑ 85 لاکھ 45 ہزار روپے کی ممکنہ مالیاتی وصولی اور نقصان کا معاملہ زیر بحث آیا۔ آڈٹ حکام کے مطابق یونیورسٹی کی جانب سے مختلف جامعات میں پی ایچ ڈی کے لیے 63 لیکچررز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کو بیرون ملک اسکالرشپس فراہم کی گئیں، تاہم صرف 12 اسکالرز مقررہ مدت میں واپس رپورٹ کیے، جبکہ دیگر اسکالرز کی جانب سے معاہدوں کی خلاف ورزی کے باوجود واجب الادا رقم اور مقررہ جرمانے کی وصولی نہیں کی جا سکی۔آڈٹ حکام نے بتایا کہ متعلقہ پالیسی کے تحت معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے اسکالرز کی اسکالرشپ منسوخ کرنے کے علاوہ ان پر اٹھنے والے اخراجات اور 25 فیصد تک جرمانہ بھی وصول کیا جا سکتا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ غیر حاضر اسکالرز سے بانڈ کی رقم ایک سال کے اندر اقساط میں وصول کرنے کی سہولت دی جا رہی ہے، جبکہ متعلقہ حکام، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA)، متعلقہ ممالک کے سفارت خانوں اور جامعات کو بھی خطوط ارسال کیے جا رہے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ مستقبل میں اسکالرشپ اور اسٹڈی لیو کے معاملات میں ڈالر کی قدر کے مطابق بانڈ، سرکاری ملازمین بطور ضامن اور جائیداد کی ضمانت کی شرائط کو مزید م¶ثر بنایا جا رہا ہے۔کمیٹی نے اس معاملے پر یونیورسٹی انتظامیہ سے مزید وضاحت طلب کرتے ہوئے سرکاری وسائل کے تحفظ اور اسکالرشپ معاہدوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں دوسرا اہم آڈٹ اعتراض اضافی چارج الا¶نس کی مد میں 36 لاکھ 4 ہزار روپے کی زائد ادائیگی سے متعلق تھا۔ آڈٹ حکام کے مطابق مالیاتی قواعد کے تحت اضافی چارج الا¶نس کی ادائیگی مخصوص شرح اور زیادہ سے زیادہ مقررہ حد کے تابع ہے، تاہم یونیورسٹی میں بعض افسران کو چھ ماہ کی مقررہ مدت سے زائد عرصے تک اضافی چارج الا¶نس ادا کیا گیا، جس کے نتیجے میں سرکاری خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑا۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق سال 2019ءسے 2021ءکے دوران 22 لاکھ 95 ہزار روپے کے بجائے 58 لاکھ 99 ہزار روپے کی ادائیگی کی گئی، جس سے 36 لاکھ 4 ہزار روپے کی زائد ادائیگی سامنے آئی۔یونیورسٹی انتظامیہ نے بتایا کہ اس معاملے میں بعد از وقت منظوری (Ex-post facto approval) حاصل کی گئی ہے۔ کمیٹی نے اس آڈٹ اعتراض کا بھی تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے مالیاتی قواعد کی پابندی، انتظامی شفافیت اور اندرونی مالیاتی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔چیئرمین پبلک اکا¶نٹس کمیٹی نے واضح کیا کہ سرکاری اداروں اور جامعات میں مالیاتی نظم و ضبط، شفافیت اور عوامی وسائل کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آڈٹ اعتراضات کے بروقت ازالے، رقوم کی وصولی اور ذمہ داریوں کے تعین کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ سرکاری خزانے کو کسی بھی ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں