ظہورآغا آئی ایس ایف میں دھڑہ بندہ میں ملوث رہے ہیں، عمیرخان چھلگری
کوئٹہ : انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن بلوچستان کے سابق صوبائی صدر عمیر خان چھلگری نے تحریک انصاف کے بلوچستان سے سینٹ کے ٹکٹ ہولڈر سید ظہور آغا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ روز اول سے آئی ایس ایف میں دھڑہ بندی اور مبینہ طور پر انتشار پھیلانے میں ملوث رہے ہیں انہیں سینٹ انتخابات میں حصہ لینے کے لئے ٹکٹ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کے دوست ہونے کے بناء پر جاری کیا گیا ہے بلکہ انہیں کوئٹہ کا سینئر نائب صدر بھی بنادیا گیا ہے ہم پارٹی چیئرمین سے اس غیر آئینی عمل کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بدھ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے موقع پر عمیر خان چھلگری ودیگر نے تحریک انصاف کے بلوچستان میں سینٹ ٹکٹ ہولڈر سید ظہور آغا کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ وہ روز اول سے سٹوڈنٹس تنظیم آئی ایس ایف میں انتشار پھیلانے اور دھڑہ بندی میں کار فرما رہے ہیں بلکہ ان کے خلاف آئی ایس ایف کے تنظیمی ممبر پر حملے کی ایف آئی آر ریکارڈ پر موجود ہے ان کے خلاف پارٹی کی ڈسپلنری کمیٹی نے انکوائری کے احکامات جاری کئے تھے لیکن اس انکوائری کو قاسم سوری کے سفارش پر روک دیا گیا اسی لئے مذکورہ انکوائری کمیٹی کا فیصلہ زیر التواء ہے۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایس ایف کے عہدیدار و دیگر پر حملے کے موقع پر ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر موسیٰ خیل بھی موجود تھے، ایف آئی آر میں باقی گواہوں کے نام بھی موجود ہیں جن میں سے اکثر قاسم سوری اور ظہور آغا کے دوست ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیاکہ بلوچستان سے پی ٹی آئی کے سینٹ ٹکٹ ہولڈر کو ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی سفارش پر ٹکٹ جاری کیا گیا جو قابل افسوس امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں تحریک انصاف اور آئی ایس ایف کی بربادی کا سامان کیا گیا لیکن مرکزی قیادت کو اس کی کانوں کان تک خبر نہیں ہونے دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس طرح کے فیصلوں کے خاموش نہیں رہیں گے بلکہ نوجوانوں کے مخالف مفاد پرست ٹولے کوبے نقاب کریں گے ہم پارٹی چیئرمین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ظہور آغا سے سینٹ ٹکٹ واپس لے کر کسی پڑھے لکھے نوجوان کو اس کا اجراء کرے بلکہ موجودہ پارلیمانی لیڈر سے مشاورت کے بغیر اسلام آباد سے پارٹی پر فیصلے مسلط کرنے سے بھی گریز کیا جائے۔


