مولانا فضل الرحمن نے نواز شریف اور آصف زرداری سے ٹیلی فونک رابطہ

اسلام آباد;سینیٹ کے چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن سے قبل پی ڈی ایم کے تین رہنماؤں سابق صدر آصف زرداری،سابق وزیر اعظم نواز شریف اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں انہوں نے خبر دار کیا ہے کہ آج جمعہ کو چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے موقع پر اپوزیشن کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کی گئی تو پھر سب کچھ عوام کے سامنے لایا جائیگا اور جو نامعلوم نمبروں سے ہمارے سینیٹرز کو ٹیلی فون کر کے صادق سنجرانی کوووٹ دینے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں ان سب کی حقیقت عوام کے سامنے لائی جائے گی۔جمعرات کے روز مولانا فضل الرحمن نے نواز شریف نے ٹیلیفونک رابطہ کر کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔ نواز شریف نے کہا مسلم لیگ ن کے تمام سینیٹرز پی ڈی ایم کے امیدواروں کو ووٹ دیں گے۔ اپوزیشن کے پاس سینیٹ میں اکثریت ہے۔ نواز شریف نے کہا پی ڈی ایم کے امیدواروں کی کامیابی یقینی ہے۔ دونوں رہنماوں کے درمیان ملکی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا ہے۔پی ڈی ایم لانگ مارچ سے متعلق بھی بات چیت کی گئی،مولانا فضل الرحمن نے نواز شریف کو سینیٹرز کو آنے والے نامعلوم نمبروں سے کالز اورسینیٹرز کو دباؤ میں لانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈوں سے بھی آگاہ کیا۔بعد ازاں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے سابق صدر آصف علی زرداری سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔، ذر ئع کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے پی ڈی ایم کے امیدواروں کی کامیابی کو یقینی بنانے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ آصف زرداری کا کہنا تھا پی ڈی ایم کو سینیٹ میں حکومت پر واضح برتری ہے۔ انہوں نے کہا آج یوسف رضا گیلانی اور غفور حیدری کی کامیابی کیلئے پرامید ہیں۔زرداری نے کہا کہ ہمارا ہوم۔ورک مکمل ہے تمام اراکین نے حمایت کا یقین دلایا ہے۔ اس موقع پرفضل الرحمان نے کہا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں حکومت نے ہارس ٹریڈنگ کی اور ہمارے اراکین کو توڑا تو سب عوام کے سامنے لائیں گے۔ ہمارے اراکین پر سنجرانی کو ووٹ دینے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ دونوں رہنماوں نے اتفاق کرتے ہوے کہا نمبرز گیم ہمارے حق میں ہے حکومت صرف ہارس ٹریڈنگ کرکے ہی جیت سکتی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ فضل الرحمن کے نواز شریف اور آصف زرداری کے دررمیان رابطوں میں اتفاق کیا گیا کہ اپوزیشن کی اکثریت کو اقلیت میں بدلا گیا تو سنگین نتائج ہوں گے اور نامعلوم نمبروں سے آنے والی کالز کو اور حکومتی اور حربوں کو عوام کے سامنے لایا جائیگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں