محکمہ کوسٹل ڈیولیمنٹ فشریز میں ارب روپے کرپشن کیس کی تحقیقات مکمل، 19ملزمان کیخلاف کوئٹہ عدالت میں ریفرنس جمع

کوئٹہ :قومی احتساب بیورو (نیب)بلوچستان نے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی منظوری سے محکمہ کوسٹل ڈیولپمنٹ اینڈ فشریز میں تقریبا ایک ارب روپے کرپشن کیس کی تحقیقات مکمل کرکے 19ملزمان کے خلاف ریفرنس احتساب عدالت کوئٹہ میں جمع کرادیا، کمپنی مالکان نے جعلی بینک سرٹیفکیٹ، جعلی جوائنٹ وینچر ایگریمنٹ، جعلی انشورنس گارنٹی اور جعلی تجربہ پر سرکاری ٹھیکے حاصل کئے، مروجہ قوانین اور حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بوٹس اور ٹریکنگ سسٹم کی خریداری اور فراہمی میں ملی بھگت سے قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔ نیب بلوچستان کے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق قومی احتساب بیورو بلوچستان نے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی کی منظوری سے محکمہ کوسٹل ڈویلپمنٹ اینڈ فشریز میں تقریبا ایک ارب روپے کے غبن کا کھوج لگاتے ہوئے سابق سیکرٹری محکمہ کوسٹل ڈویلپمینٹ اینڈ فشریز، ڈی جی فشریز اورمحکمہ کوسٹل ڈویلپمنٹ اینڈ فشریز کے افسران سمیت 19افراد کے خلاف ٹھوس شواہد کی روشنی میں احتساب عدالت کوئٹہ میں ریفرنس دائر کر دیا ہے۔ ملزمان نے باہمی ملی بھگت سے مروجہ قوانین اور حکومتی احکامات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ھیملیٹ بلڈرز، اے جے میرینس اینڈ انجینئر نگ سروس کراچی، قلندر بخش ابڑو اینڈ کمپنی، ایلیٹ انٹر پرائز ز حیدرآباد اور آئے ٹیکنالوجی لمیٹڈ کراچی کے کمپنی مالکان نے جعلی بینک سرٹیفکیٹ، جعلی جوائنٹ وینچر ایگریمنٹ، جعلی انشورنس گارنٹی اور جعلی تجربہ پر سرکاری ٹھیکے حاصل کئے۔ پریس ریلیز کے مطابق نیب کو محکمہ فشریز کے اعلی افسران کے خلاف ابتدائی انکوائری کے دوران انکشاف ہوا کہ سابق سیکرٹری محکمہ کوسٹل ڈویلپمینٹ اینڈ فشریز اور ڈی جی فشریز نے مروجہ قوانین اور حکومتی احکامات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گرین فائبر گلاس بوٹس، ویسل مانیٹرنگ سسٹم، سی ایمبولینس اور پٹرولنگ بوٹس کی خریداری کے ٹھیکے ان کمپنیوں کو دیئے جو نہ تو مرکنٹائن میرین ڈیپارٹمنٹ سے رجسٹرڈ تھیں اور نہ ہی اس شعبے کے خاطر خواہ مطلوبہ تجربہ اور اہلیت کی حامل تھیں۔ مزید یہ کہ کام کی تکمیل اور بوٹس، ٹریکنگ گیجٹس، متعلقہ مشینری اور اشیاکی وصولی کے بغیر مئی اور جون کے مہینے میں خلاف قوانین بھاری ادائیگیاں بھی کردی گئیں محکمہ کوسٹل ڈویلپمینٹ اینڈ فشریز اور فشریز کی ان بیقاعدگیوں کانوٹس لیتے ہوئے نیب بلوچستان کی تحقیقاتی ٹیم نے چئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی منظوری سے انتہائی جانفشانی سے کام کرتے ہوئے ملزمان کی کرپشن کا سراغ لگا لیاہے۔ نیب بلوچستان نے مرکزی ملزمان سے مزید حقائق کی جانکاری کے لیے سابق سیکرٹری محکمہ کوسٹل ڈویلپمینٹ اینڈ فشریز اور ڈی جی فشریز کو گرفتار کیا تو مزید ملزمان کی ملی بھگت کے شواہد سامنے آئے جس پر مختلف کمپنیوں کے ذمہ داران اور محکمہ کوسٹل ڈویلپمینٹ اینڈ فشریز کے افسران کے خلاف ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کردیاگیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں