دکی، تارن اور شادوزئی قبیلے کے درمیان پانچ سالہ خونی تنازعے کا تصفیہ ہو گیا

دکی: تارن اور شادوزئی قبیلے کے درمیان پانچ سال سے جاری خونی تنازعے کا تصفیہ ہوگیا اس سلسلے میں ایک قبائلی جرگہ عبدالصمد تارن کے گھر سے جمعیت علما اسلام کے صوبائی رہنماہ سردار محمد اکبر خان ناصر کی قیادت میں زلار کے علاقے میں شمس اللہ شادوزئی اور عبدالرحمان جان شادوزئی کے گھر گیا۔قبائلی جرگے میں ملک بڈو دمڑ،جمعہ خان دمڑ،ملک سیف اللہ ناصر ملک علی محمد ناصر،حاجی اسد خان ناصر،دکی پریس کلب صدر اللہ نور ناصر،قبائلی رہنماہ حاجی محمد عمر ناصر،امان اللہ مرجانزئی،وڈیرہ حاجی حمید اور شادوزئی قبیلے کی جانب سے ملک افضل شادوزئی ملک علی محمد شادوزئی ملک حنیف شادزوئی،محرر قاسم جان شادوزئی ملک نور محمد شادوزئی سمیع اللہ شادوزئی،حبیب اللہ شادوزئی،حاجی صاحب جان لونی،ملک اختر شادوزئی علما کرام قبائلی معتبرین اور سیاسی اور سماجی رہنماشامل تھے۔قبائلی جرگے نے شمس اللہ شادوزئی اور عبدالرحمان جان شادوزئی کو اپنا عزر پیش کرتے ہوئے مکمل واک واختیار دیا جس پر انہوں نے تین کروڑ روپے جرمانہ ایک کلاشنکوف اور ایک پستول بطور جرمانہ رکھا جسے جرگے نے قبول کرتے ہوئے دعائے خیر کی تاہم بعد ازاں مقتول اور زخمی گروہ نے جرگے کو ایک کروڑ پچاس لاکھ روپے معاف کرنے کا اعلان کیا۔واضح رہے کہ پانچ سال قبل تارن اور شادوذئی قبیلے کے گروہوں کے درمیان لڑائی جھگڑے کے دوران فائرنگ سے شادوزئی قبیلے کا بسم اللہ جان شادوزئی جاں بحق جبکہ عبدالرحمان جان شادوزئی زخمی ہوا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں