بساک سوراب زون کا آرگنائزنگ باڈی اجلاس، ضیاء بلوچ آرگنائزر عاصم بلوچ ڈپٹی آرگنائزر منتخب

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی سوراب کا آرگنائزنگ باڈی اجلاس زیر صدارت زونل آرگنائزر شہزاد کے ڈی منعقد ہوا جس میں مرکزی وائس چیئرپرسن شبیر بلوچ بطور مہمان خاص اور مرکزی کمیٹی کے رکن یاسر بلوچ اعزازی مہمان شریک ہوئے. اجلاس میں مرکزی سرکیولر, سابقہ رپورٹ ، تنقید برائے تعمیر ، تنظیمی امور و تجاویز ، علاقائی و عالمی سیاسی صورتحال اور آئندہ لائحہ پر سیر حاصل بحث کے بعد آئندہ لائحہ عمل میں تنظیمی امور میں بہتری کے لئے متعدد فیصلے لئے گئے.

جنرل باڈی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وائس چیئرمین شبیر بلوچ نے کہا کہ آج دانستہ طور پر بلوچ قوم کو زبان اور علاقوں کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں. کتابی نصابوں میں بلوچ قوم کو مختلف القابات سے نوازنے کے بعد ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بلوچ و براہوی کو دو الگ قوم ظاہر کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں مگر تنظیم کی بروقت ردعمل نے ایسی پروپیگنڈوں کو بے نقاب کیا. مگر ایک مرتبہ ایک ایسی منفی ماحول تیار کیا جارہا ہے جہاں بلوچ و براہوی کی خودساختہ تضاد کو ایک مرتبہ پھر ابھارا جاسکے تاکہ تعلیمی اداروں سے ایسی ذہنیت کو پروان دیا جائے جو کہ بلوچ کو زبانوں کی بنیاد پر تقسیم کرے.

شبیر بلوچ نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکش کمیٹی بلوچ راج دوستی کے بنیاد پر بلوچ طلباء کے لئے جدوجہد کرتی آرہی ہے اسکے ساتھ طلباء کے مسائل کو حل کرنے کےلیے ہمہ وقت بغیر کسی جنسی تفریق ، نسل ، زات و پات اور زبان کے پیش پیش رہی ہے جس کی مثالیں تنظیمی پروگرام میں دیکھنے کو ملتی ہیں ، بلوچ قوم کو زبان اور علاقوں کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے خلاف تنظیم نے ہر وقت آواز اٹھائی ہے. اس کے ساتھ اپنے ممبرز کی تربیت کےلیے کارآمد پالیسیاں ترتیب دی ہیں تاکہ طلباء کو بھی ان تعصبات سے پاک کیا جائے جس کی مثال جس تنظیم کی مرکزی آرگن سہ ماہی تاک “نوشت ” ہے جس میں بلوچی و براہوی زبان کو یکساں طور پر نمائندگی دی ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیم بلوچ قوم کے زبانوں کو فروغ دینے میں کوشاں عمل ہیں.

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی کمیٹی کے رکن یاسر بلوچ نے کہا کہ سوراب بلوچ سیاست کے حوالے سے ایک تاریخی ضلع رہا ہے، یہاں کے ہر وقت طلباء مختلف موضوعات پر بحث مباحثے کرتے رہتے ہیں مگر کچھ عرصے سے مختلف وجوہات کی بنیاد پر سوراب کی سیاسی ماحول جمود کا شکار بن گئ تھی. سوراب میں تنظیمی وجود اس بات کو بخوبی ظاہر کرتا ہے کہ بساک بحثیت قومی طلباء تنظیم کے دیگر بلوچ علاقوں کے طرح م مرکزی و زونل سطح پر مختلف پروگرامز مرتب کرکے ایک مرتبہ پھر سوراب میں سیاسی ماحول کو فروغ دیا جائے گا.

مرکزی کمیٹی کے رکن یاسر بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہ تنظیمی فعالت ہی منفی اور غیر سیاسی ریویوں کے خاتمہ کا نام ہے،کسی معاشرے میں تنظیم کے محترک ہونے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ سماج میں ہر برُے اور غیر ضروری کاموں کی بیخ بینی کرتے ہوئے لوگوں کو سیاست جانب کی راغب کرے تاکہ وہ سماجی فلاح و بہبود کے لئے جدوجہد کر سکیں. تاریخ شاہد ہے کہ قومی و سماجی فلاح و بہبود کا راز علم و ادب میں پنہاں ہے اس لئے تنظیمیں علم و شعور کا سہارہ لیکر سماج کو محترک کرتے ہیں.
اجلاس میں مختلف ایجنڈوں پر سیر حاصل گفتگو کے بعد آئندہ لائحہ عمل کے ایجنڈے میں نئی آرگنائزنگ باڈی کا قیام عمل میں لایا گیا جس میں آرگنائز ضیاء بلوچ، ڈپٹی آرگنائز عاصم بلوچ جبکہ آرگنائزنگ باڈی کے رکن شہزاد بلوچ لیاقت اور شہزاد کے ڈی منتخب ہوئے. نومنتخب زونل آرگنائز باڈی نے سوراب میں تنظیمی فعالیت کا اعادہ کیا کہ زون نووشت اسٹڈی سرکل کی جلد سے جلد اہتمام کیا جائے گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں