بلوچستان حکومت کی اشتہارت کی نئی پالیسی سے صوبے کے حقیقی اخبارات کا معاشی قتل ہوگا، ربجا
روالپنڈی اسلام آبا د بیوروز جرنسلٹس ایسوسی ایشن (ربجا)نے اپنے ایک جاری پریس ریلیز میں بلوچستان حکومت کی پالیسی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جاری بیان میں انہوں نے کہاکہ چند روز قبل وزیراعلی سرفراز بگٹی نے بلوچستان اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ پاکستان کے مین اسٹریم نیوز چینلز کے بلوچستان میں موجود بیورو آفسز کو بند نہیں ہونے دیا جائے گا یہ ایک مثبت اور قابلِ تحسین مو¿قف ہے، جس کی ہم بھرپور حمایت کرتے ہیں۔تاہم ہماری گزارش ہے کہ جس طرح سرفراز بگٹی قومی میڈیا کے بیورو آفسز کو تحفظ دینا چاہتے ہیں، اسی طرح بلوچستان کے حقیقی ریجنل میڈیا کو بھی تحفظ فراہم کریں۔ بدقسمتی سے حکومت کی نئی اشتہاری پالیسی میں ایسے کئی نقائص موجود ہیں جو صوبے کے علاقائی میڈیا کے معاشی قتل کا سبب بنیںگے اس یکطرفہ پالیسی میںسب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں عملی طور پر صرف دو اخبارات کو اشتہارات مل رہے ہیں جس سے دواخبارات کی اجارہ داری قائم ہوں گے ۔ بیان کے مطابق یہ اخبارات خود کو نیشنل میڈیا قرار دیتے ہیں، جبکہ بلوچستان کے حقیقی ریجنل اخبارات، جنہوں نے انتہائی مشکل حالات میں صحافت کو زندہ رکھا، نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔بلوچستان کے ریجنل میڈیا نے نہ صرف صوبے میں سینکڑوں افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے بلکہ اسلام آباد میں بھی اپنے بیورو آفسز قائم کیے، بیورو چیفس، رپورٹرز اور کورسپونڈنٹس تعینات کیے، اور قومی سطح پر بلوچستان کی آواز کو موثر انداز میں اجاگر کیا۔ اگر یہی ادارے معاشی طور پر کمزور ہو گئے تو اس کا نقصان صرف میڈیا کو نہیں بلکہ بلوچستان کی نمائندگی کو بھی ہوگا۔سرفراز بگٹی نے یہ بھی کہا تھا کہ ڈیجیٹل پبلشرز کی حوصلہ افزائی کی جائے گی لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے آج اگر کوئی فرد صرف اشتہار حاصل کرنے کی غرض سے عارضی ویب سائٹ بنا لے تو وہ بھی اشتہارات کا اہل ہو جاتا ہے ان کی گوگل ٹریفکینگ کی جانچ پڑتال نہیں کی جارہی او ر ان کو اشتہارات مل رہے ہیں اس سے بدعنوانی میں مزید اضافہ ہوگا ۔ بیان میں مزید کہا ہے کہ ہم وی لاگرز یا ڈیجیٹل کریئیٹرز کے خلاف نہیں ہیںاگر حکومت سمجھتی ہے کہ وہ بلوچستان کا مثبت تشخص اجاگر کر سکتے ہیں یا عوامی مسائل کو موثر انداز میں سامنے لا سکتے ہیں تو ان کے لیے الگ فنڈ یا الگ پالیسی بنائی جا سکتی ہے لیکن اس مقصد کے لیے پرنٹ اور ریجنل میڈیا کے حصے میں کمی کرنا مناسب نہیں۔پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں حکومتوں نے اپنی ڈیجیٹل میڈیا ٹیمیں بھی تشکیل دی ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ پرنٹ میڈیا کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بلوچستان سمیت ملک بھر کے صحافی حلقے ای پی این ایس اور سی پی این اے اس پالیسی کی مذمت کرچکے ہیں اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف ملک بھر کی صحافتی تنظیمیں اور میڈیا ہاوسز کھڑے ہیں، جبکہ دوسری طرف حکومتِ بلوچستان اپنی موجودہ پالیسی پر قائم ہے۔لہٰذا ہم حکومت بلوچستان سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ اس اشتہاری پالیسی پر فوری نظرِ ثانی کریں اور اسے واپس لے کر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ایک منصفانہ، شفاف اور مساوی پالیسی مرتب کریں۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہم اس معاملے کو اعلیٰ حکام کے سامنے اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔ ہم صدرِ پاکستان، پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت اور دیگر متعلقہ فورمز سے ملاقات کریں گے اور یہ وضاحت طلب کریں گے کہ آیا یہ پالیسی پاکستان پیپلز پارٹی کی مجموعی پالیسی ہے یا صرف حکومتِ بلوچستان کا انفرادی فیصلہ ہے ہماری خواہش تصادم نہیں بلکہ مکالمہ، انصاف اور بلوچستان کے آزاد، مضبوط اور باوقار ریجنل میڈیا کا تحفظ ہے۔


