اسلام آباد، اسکالرشپ پر آنے والے بلوچستان کے طلبہ کو انتہائی غیر معیاری اور ناقص ہاسٹلز میں رکھا گیا، سینیٹر جان بلیدی

اسلام آباد +کوئٹہ(این این آئی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے منعقدہ اجلاس میں سینیٹر جان محمد بلیدی نے حکومتِ بلوچستان کے تحت عالمی بینک کے مالی تعاون سے جاری Balochistan Human Capital Investment Project (BHCIP) میں ہونے والی سنگین بے ضابطگیوں اور 150 بلوچستان کے طلبہ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا معاملہ انتہائی سخت انداز میں اٹھایا۔سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ یہ صرف انتظامی غفلت نہیں بلکہ بلوچستان کے نوجوانوں کے مستقبل سے مذاق، ان کے بنیادی حقوق کی پامالی اور عالمی بینک کے فنڈز کے ممکنہ غلط استعمال کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان نے ان 150 طلباءمیں 47 طلبہ کو نرسنگ ڈگری کے لیے اسکالرشپ پر اسلام آباد بھیجا، لیکن افسوس کہ انہیں ایسے ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام میں داخل کر دیا گیا جو نہ پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل (PNMC) سے رجسٹرڈ تھا، نہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے تسلیم شدہ، جبکہ ہیلتھ سروسز اکیڈمی کو یہ پروگرام چلانے کا قانونی اختیار بھی حاصل نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ اس غفلت اور مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث طلبہ کے دو قیمتی سال ضائع کر دیے گئے اور اب انہیں ایسی ٹریننگ/ڈپلومہ کا سرٹیفکیٹ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کی نہ HEC میں کوئی حیثیت ہے اور نہ PNMC میں، جس سے ان کا مستقبل شدید خطرے میں پڑ گیا ہے۔سینیٹر جان محمد بلیدی نے مزید کہا کہ اسکالرشپ پر آنے والے ان طلبہ کو انتہائی غیر معیاری اور ناقص ہاسٹلز میں رکھا گیا، غیر معیاری کھانا فراہم کیا گیا، بعد ازاں انہیں زبردستی ہاسٹلز خالی کرنے پر مجبور کیا گیا، جبکہ انہیں صرف پانچ ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دیا جاتا رہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی بینک کے اس منصوبے کے تحت جاری 36 ملین ڈالر فنڈز جو کہ 10ارب پاکستانی روپے بنتے ہیں، کا شفاف اور آزادانہ آڈٹ کرایا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائےوفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے کو ذاتی طور پر دیکھیں گے اور ایک ہفتے کے اندر اس کا قابلِ قبول حل پیش کریں گے۔وزیرِ صحت کی یقین دہانی پر قائمہ کمیٹی نے اس معاملے کو آئندہ اجلاس تک مو¿خر کرتے ہوئے وزارتِ صحت کو ہدایت کی کہ ایک ہفتے کے اندر متاثرہ طلبہ کے مستقبل کے تحفظ، ان کے تعلیمی نقصان کے ازالے اور اس پورے معاملے کی مکمل رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں