اپوزیشن اراکین پر حملہ سیاسی عمل نہیں آمر ذہنیت کی حرکت کے مترادف ہے، شفیق الرحمن ساسولی
خضدر:بلوچستان نیشنل پارٹی ضلع خضدار کے صدر شفیق الرحمن ساسولی نے صوبائی حکومت کی جانب سے اپوزیشن اراکینِ اسمبلی پر پولیس گردی و تشدد کو قابلِ مذمت عمل قرار دیتے ہوئے کہاکہ صوبائی حکومت کا بکتربند گاڑیوں سے اپنے ہی اسمبلی پر دھاوا بول کر حملہ، اراکینِ اسمبلی پر تشدد یہ کوئی سیاسی عمل نہیں بلکہ کسی آمر اور پرتشدد ذہنیت کے حامل مجنون فردکی حرکت کے مترادف عمل ہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ صوبائی حکومت پوری کوشش کررہی ہے کہ کسی طرح غیرمنتخب نمائندوں کو پی ایس ڈپی میں فنڈز سے نوازنے کے پیچھے حکمنامہ کو چپھاکر غیرآئینی عمل اور سب جرائم اپنے کھاتے میں لیتیہوئے وفاداری کا ثبوت پیش کرے۔ مگر ہردفعہ ذلت ہی انکی مقدر بنتی ہے۔انہوں نے کہاکہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان میں لاکھوں لوگوں نے دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث کچھ نام نہاد معززین کو 2018 کے الیکشن میں ہارتے دیکھ کر سکھ کا سانس لیا مگر پھر بھی بزورِ طاقت کچھ حلقوں میں عوامی نمائندوں کی جیت کی توثیق کے عمل کو روک دیاگیا اور فیورٹ چائلڈز کو فتح دلوائی گئی۔ آج وہی فیورٹ چلڈرن وفاداری کا ثبوت دیتیہوئے کچھ بھی کرکے اپوزیشن اراکین پر بکتر بند گاڑی چلاکے بھی اپنے ہارے ہوئے بھائیوں کیلئے بجٹ میں روزِی روٹی کا بندوبست کررہے ہیں۔ غیرمنتخب نمائندوں کو فنڈز سے نوازنے، بجٹ میں منتخب نمائندوں کو نظرانداز کرنے اپوزیشن ارکانِ اسمبلی پر تشدد موجودہ حکومت کی پرتشدد پالیسی کی عکاس ہے۔ صوبائی اسمبلی کے اراکین میراختر حسین لانگو، بابو رحیم مینگل، شکیلہ نوید دہوار، عبدالواحد صدیقی، نصراللہ زیرے کو بکتر بند گاڑی سے ٹکر مارکر زخمی کرنا، بلوچستان اسمبلی کا گیٹ توڑدینا، جام سرکار نیاسمبلی کے تقدس کو پامال کرکے یہ ثابت کردیاکہ بلوچستان میں جنگل کا قانون نافذ ہے۔ جب عوام اس طرح کے غیر جمہوری، غیر قانونی اور غیرآئینی اقدامات کے خلاف احتجاج کرتی ہیتو پولیس گردی کا شکاربنایاجاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں جنگل کا قانون نافذ ہے، ہزاروں معصوموں کے قاتلوں کو مراعات سے نوازاجارہاہے، اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگز میں ملوث گروہوں کو سرکاری بجٹ کے ذریعے مالی تقویت پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے۔ جب بلوچستان نیشنل پارٹی و دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اپنے عوام کی نمائندگی اور اپنے آئینی حقوق کے حصول کیلئے جب احتجاج کی تو آمرانہ رویہ اختیار کرکے ظلم کا شکار بنائے گئے، منتخب اراکینِ اسمبلی کو تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔انہوں نے کہا کہ اپنے حقوق کے حصول کی خاطر جدوجہد و پرامن احتجاج کرنا ہر کسی کا آئینی حق ہے تاہم بلوچستان پر برسر اقتدار حکومت غیر آئینی اور غیر جمہوری عمل کامرتکب ہورہی ہے، تین سال سے صوبائی حکومت کے ظلم اور جبر کی پالیسیاں جاری ہیں، عوام کو صاف پانی، صحت، تعلیم سمیت بنیادی ضروریات زندگی دینے کے بجائے کچھ من پسند شخصیات اور ڈیتھ اسکواڈز کو مراعات سے نوازنے کے پالیسی پر عمل پیراہے۔ انہوں نے کہاکہ بی این پی ضلع خضدار صوبائی حکومت کے آمرانہ رویہ کی بھرپور مذمت کرتی ہے، صوبائی اسمبلی کے اراکین میر اختر حسین لانگو، بابو رحیم مینگل، شکیلہ نوید دہوار، مولانا صدیقی، نصراللہ زیرے پر تشدد صوبائی حکومت کے بھوکلاہٹ کا نتیجہ ہے۔ وفاقی سطح پر بلوچستان حکومت کے اس غیر جمہوری طرز عمل کا نوٹس لیکر کاروائی عمل میں لائی جائے۔


