مطالبات کی منظوری تک احتجاج مزید شدت سے جاری رہے گا، وائی ڈی اے

کوئٹہ(آن لائن)ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے بیان میں کہاگیا ہے کہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب حملہ دراصل بلوچستان کے نظامِ صحت پر حملہ ہے مطالبات کی منظوری تک احتجاج مزید شدت سے جاری رہے گا- ترجمان کے مطابق ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان اس امر کا اعادہ کرتی ہے کہ خاتون ڈاکٹر ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ہونے والا بہیمانہ تیزاب حملہ محض ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ بلوچستان کے پورے نظامِ صحت، طبی برادری اور انسانیت پر حملہ ہے، جو کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ایسے افسوسناک واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور طبی عملہ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان گزشتہ اکیس روز سے سراپا احتجاج ہے۔ صوبے بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز سے دستبرداری کا سلسلہ بدستور جاری ہے، تاہم ایمرجنسی، انڈور اور دیگر ضروری طبی خدمات حسبِ معمول فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ عوام کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔بدقسمتی سے حکومت بلوچستان ایک نااہل اور متنازعہ افسر کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے، جبکہ واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کرنے والے 30 سے زائد ڈاکٹرز کو معطل کر دیا گیا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ تحقیقات کا مطالبہ کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف فوری کارروائی کی گئی، لیکن ایک نااہل سیکریٹری ہیلتھ کو معطل کرنے یا ان کے کردار کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرانے میں حکومت مکمل بے بسی اور عدم دلچسپی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔حکومت بلوچستان کی مسلسل خاموشی اور بے حسی سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ صحت کا شعبہ نہ ماضی میں حکومت کی ترجیحات میں شامل تھا اور نہ ہی آج ہے۔ صوبے میں شعب صحت کو عوام کو معیاری علاج فراہم کرنے کے بجائے کرپشن اور اقربا پروری کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے، جس کے باعث حکومت نہ عوام کو علاج معالجے کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں کامیاب ہو سکی ہے اور نہ ہی ڈاکٹرز اور طبی عملے کو تحفظ دینے میں۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان اپنے تمام اراکین اور صوبے بھر کے ڈاکٹرز کو یقین دلاتی ہے کہ تنظیم اپنے ہر ڈاکٹر کے حقوق، وقار اور تحفظ کے لیے ہر ممکن قربانی دینے کے لیے تیار ہے اور اس جدوجہد سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گی۔اسی سلسلے میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرتی ہے کہ 29 جون کو گرینڈ ڈاکٹرز کانفرنس منعقد کی جائے گی، جس میں صوبے بھر سے ڈاکٹرز شرکت کریں گے اور آئندہ کے احتجاجی اقدامات کا فیصلہ کیا جائے گا۔ 30 جون کو سول ہسپتال کوئٹہ سے ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔ اور اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان بھی کیا جائے گا* اسی روز صوبے بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے جائیں گے۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان واضح کرتی ہے کہ جب تک1. سیکریٹری ہیلتھ اور ایم ایس سول ہسپتال کو ان کے عہدوں سے برطرف نہیں کیا جاتا2. ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر حملے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم نہیں کیا جاتا3. ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کے تحفظ کو یقینی نہیں بنایا جاتااس وقت تک تنظیم اپنا احتجاج نہ صرف جاری رکھے گی بلکہ اسے مزید وسعت اور شدت بھی دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں