بلوچستان سے کراچی آنے والے مسافروں کو ہراساں کرنا قابلِ تشویش ہے، مولانا ہدایت الرحمان

کوئٹہ(یو این اے )امیر جماعت اسلامی بلوچستان و ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کراچی میں جماعت اسلامی کراچی کے رکن سندھ اسمبلی اور سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے رکن، ایم پی اے محمد فاروق سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران مکران، گوادر، کوئٹہ، چمن، ژوب اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے کراچی آنے والے مسافروں کو سندھ پولیس کی جانب سے مبینہ ہراسانی، غیر مناسب رویے اور رشوت و لوٹ مار جیسے واقعات پر تفصیلی تبادل خیال کیا گیا۔ مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ بلوچستان سے روزگار، علاج، تعلیم اور دیگر ضروری کاموں کے سلسلے میں کراچی آنے والے شہریوں کو مختلف مقامات پر بلاجواز روک کر مشکلات سے دوچار کیا جاتا ہے۔ چیک پوسٹوں پر مریضوں، خواتین، طلبہ اور دیگر مسافروں کو شدید گرمی میں گھنٹوں انتظار کرانا نہ صرف غیر انسانی عمل ہے بلکہ شہریوں کی عزتِ نفس کو بھی مجروح کرتا ہے جو انتہائی قابلِ تشویش ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسافر گاڑیوں کی تلاشی کے لیے ایسا مثر اور باوقار طریق کار وضع کیا جائے جس کے تحت سیکیورٹی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے مسافروں کی عزت و وقار کا مکمل خیال رکھا جائے، غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے اور کم سے کم وقت میں تلاشی کا عمل مکمل کیا جائے۔ انہوں نے اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے مثر انتظامی اور اصلاحی اقدامات کرنے پر زور دیا۔ اس موقع پر ایم پی اے محمد فاروق نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے کو سندھ حکومت اور وزارتِ داخلہ کے سامنے بھرپور انداز میں اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام سے بات چیت کر کے مکران، گوادر، کوئٹہ، چمن، ژوب اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے آنے والے تمام مسافروں کے ساتھ پولیس کے غیر مناسب رویے، مبینہ بدعنوانی اور ہراسانی کی شکایات کے ازالے کے لیے مثر کارروائی اور اصلاحی اقدامات یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قانون کی عملداری کے ساتھ ساتھ شہریوں کے بنیادی حقوق، عزت و احترام اور باوقار سفر کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں