حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معاملات کی حل تلاش کیلئے بااختیار پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے، جمال شاہ کاکڑ
کوئٹہ: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر و سا بق اسپیکر جمال شاہ کاکڑ نے بلو چستان کی متحدہ اپو زیشن جما عتوں کے احتجاج اور مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسپیکر بلو چستان اسمبلی کی سر برا ہی میں ایک با اختیار پار لیما نی کمیٹی بنائے جائے جو حکومت اور اپو زیشن کے درمیان پی ایس ڈی پی مقدما ت کے اندراج بجٹ کے اجلاس کے دوران پیش آنے والے نا خو شگوار وا قعات کا حل تلا ش کرے اور فوری طورپر اپو زیشن جما عتوں کے اراکان اسمبلی کے خلاف دائر کی گئی ایف آئی آر کو واپس لیا جائے۔یہ بات انہوں نے جمعہ کو مسلم لیگ(ن) کے صوبائی نائب صدر ملک ظاہر کاکڑ اور صوبائی سیکر ٹری اطلاعات نصیر خان اچکزئی کے ہمراہ بجلی روڈ تھانہ میں اپو زیشن ارکان اسمبلی سے اظہار یکجہتی کر تے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ اپو زیشن اگر چے حز ب اختلاف ہے مگر جمہو ریت کا اصل حسن اپو زیشن جما عتوں سے ہے اسمبلی کو بغیر اپو زیشن کے چلانا کسی بھی صورت جمہوری روایت نہیں ہے انہوں نے کہاکہ اپو زیشن کا کام ہی حکومت پر تنقید عوام کے حقوق کے حصو ل کیلئے احتجاج اور آواز بلند کر نا ہے اپو زیشن کے 23نمائند وں کو بلو چستان کی آ دھی آباد ی نے ووٹ دیکر اپنا نمائند ہ بنا اور انہیں ایوان میں بھیجا بطو ر نمائند ے کے انکا یہ حق ہے کہ اگر انکے حلقے میں تر قیا تی کام ہو رہے ہیں اور انہیں اس پر اعتماد میں لیا جائے یہ انکی آرا کو بجٹ اور پو ایس ڈی میں ضر ور شامل کیا جائے کیونکہ منتخب ارکان عوام کی بڑ ی تعداد میں حما یت سے منتخب ہو کر آئے ہو تے ہیں اور انہیں مسائل کا ادراک ہے انہوں نے کہا کہ بجٹ کے اجلاس کے دوران جو کچھ بھی ہوا وہ انتہائی افسوسناک اور بلو چستان کی روا یات کے منا فی تھا اس کے بعد حکومت کی جانب سے ایف آئی آر کرنا کسی بھی صورت دا نشمند انا اقدام نہیں تھا حکومتیں ہمیشہ سے بر داشت صبر اور تحمل سے کام لیتی ہیں لیکن بلو چستان حکومت نے اپو زیشن کے احتجاج کے سا تھ جار حانہ رویہ اختیار کیا جسکی وجہ سے معا ملات مزید پیچید ہ ہو گئے ہیں انہوں نے کہاکہ آج بلو چستان میں سیا سی انتشار کی کیفیت ہے بجٹ بھی اپو زیشن کے بغیر منظور کر لیا گیا اور یہ کسی بھی صورت جمہو ری روایت نہیں تھی حکومت کو چاہیے تھا وہ فو ری طوپر اپو زیشن کو منا تی اب بھی وقت ہے کہ اپو زیشن کے خلاف درج مقدما ت کو فور ی طورپر واپس لیا جائے اور اسکے سا تھ ہی اسپیکر بلو چستان اسمبلی کی سر بر اہی میں ایک حکومت اور اپو زیشن پر مشتمل ایک با اختیار پا ر لیمانی کمیٹی بنائی جائے جو پی ایس ڈی پی مقدمات کے اندراج سمیت دیگر تمام مسائل کو افہام و تفہیم سے حل کر نے کیلئے اپنا کر دار ادا رکرے۔


