بلوچستان کے حساس ترین مسئلے پر عمران خان غیر سنجیدہ ہیں،جمال شاہ کاکڑ

کوئٹہ: پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صوبائی صدر و سابق اسپیکر جمال شاہ کاکڑ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے بلوچستان کے حساس ترین مسئلے پر انتہائی غیر سنجیدیگی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ناراض بلوچوں سے بات کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں،بلوچستان کے مسئلے کا حل سیاسی ہے جو صرف اور صرف عوام کے ووٹوں سے منتخب حکومت کرسکتی ہے۔یہ بات انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہی، جمال شاہ کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ ایک دیہائی سے زائد عرصے سے مسلح شورش جاری ہے یہ ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے جس کی وجہ سے یہاں بہت سے مسائل رہے ہیں اور آج بھی صوبہ بد امنی،انتشار کا شکار ہے میاں نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے صوبے میں پر امن بلوچستان کے نام سے منصوبہ شروع کیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان کیا لیکن بد قسمتی سے میاں نواز شریف بطور وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکے اور انکی ہدایت پر بیرون ملک بیٹھے ناراض بلوچوں سے بات چیت کا سلسلہ ادھورا رہ گیا انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے جس غیر سنجیدہ انداز میں کہا کہ وہ فل الحال ناراض بلوچوں سے بات چیت کا سوچ رہے ہیں وہ کسی بھی صورت مفید ثابت نہیں ہوگا انہوں نے کہا کہ بات چیت کے لئے ماحول بنانے کی ضرورت ہوتی ہے سازگار ماحول میں بات چیت کو فروغ دیا جاتا ہے ماحول بنا نے کے لئے ایسے لوگوں کی ضرورت ہے کہ جن پر دونوں فریقین کا اعتماد ہو اور وہ بیچ کا راستہ نکالے تاکہ کسی بھی فریق کے ذہن میں کوئی ابہام نہ رہے لیکن موجودہ حکومت کے پاس اتنی استعداد نہیں ہے کہ اس پر اعتماد کر کے کوئی اپنی جلا وطنی ختم کر کے وطن واپس لوٹے انہوں نے کہا کہ بات چیت اور مذاکرات کا عمل عوام کی منتخب کردہ حکومتوں کا کام ہے موجودہ حکومت عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر نہیں آئی اور نہ ہی اس پر کسی کا بھی اعتماد ہے کہ اس حکومت کی کسی بھی یقین دہانی پر یقین کرے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) عوام کے ووٹوں سے آئندہ انتخابات میں کامیاب ہوکر آئیگی اور بیرون ملک بیٹھے تمام لوگوں سے بامقصد اور نا معنی مذاکرات کرکے انہیں وطن واپس لائیگی

اپنا تبصرہ بھیجیں