بلوچستان کے ایک ایک انچ اور وسائل کا دفاع کرینگے، بی این پی

کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کوئٹہ میں پارٹی کے نوجوان شہید رہنماء ملک نوید جان دہوار اور ان کے ساتھی شہید ظریف جان دہوار کی چوتھی برسی کے موقع پر بی این پی ضلع کوئٹہ کے زیراہتمام تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا ریفرنس کے مہمان خاص پارٹی کے مرکزی قائمقام صدر ملک عبدالولی کاکڑ‘ اعزازی مہمان پارٹی کے مرکزی فنانس سیکرٹری صوبائی پارلیمانی لیڈر ملک نصیراحمد شاہوانی جبکہ ریفرنس کی صدارت شہید رہنماؤں کی تصاویر سے کرائی گئی شہید ملک نوید دہوار اور ان کے ساتھی ظریف جان دہوار کی عظیم قربانیوں کے احترام میں ایک منٹ کھڑے ہوکر خاموشی اختیار کی گئی تعزیتی ریفرنس سے پارٹی کے مرکزی قائمقام صدر ملک عبدالولی کاکڑ‘ مرکزی فنانس سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر ملک نصیراحمدشاہوانی‘ مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ‘ مرکزی کمیٹی کے اراکین واجہ جہانزیب بلوچ‘ ایم پی اخترحسین لانگو‘ غلام نبی مری‘ میر نذیر احمد کھوسہ‘ ایم پی اے و ضلعی صدر احمد نواز بلوچ‘ ایم پی اے میر اکبر مینگل‘ جمیلہ بلوچ‘ منورہ سلطان‘ میڈیم طاہرہ احساس جتک‘ میر جمال لانگو‘ بی این پی کوئٹہ کے ضلعی جنرل سیکرٹری آغا خالد دلسوز‘ سینئر نائب صدر ملک محئی الدین لہڑی‘ جوائنٹ سیکرٹری حاجی عبدالغفور سرپرہ‘ لیبر سیکرٹری ڈاکٹر علی احمد قمبرانی‘ بی این پی گوادر کی خواتین سیکرٹری عارفہ عبداللہ بلوچ‘ چیئرمین واحد بلوچ بی این پی کوئٹہ کے سابق ضلعی سیکرٹری اطلاعات اسد سفیرشاہوانی‘ کامریڈ یونس بلوچ‘سردار رحمت اللہ قصیرانی‘ سراج لہڑی‘ نعمت مظہر‘ بسم اللہ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے شہید ملک نوید دہوار اور شہید ظریف جان دہوار کی بلوچ قومی تحریک اور بلوچستان کے دفاع کے لئے قومی جمہوری حقوق کے لئے جدوجہد کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی کے نہایت فعال اور متحرک رہنماؤں میں شمار ہوتا تھا اور قومی تحریک کے لئے ان کی جدوجہد اور قربانیوں کو کسی بھی صورت میں فراموش نہیں کیا جاسکتا انہیں ایک ایسے وقت میں ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے ہم سے جداء کیا گیا جب بی این پی کوئٹہ میں بلوچ قوم و دیگر اقوام کو شیروشکر متحد و منظم کرنے کے لئے پارٹی کے پلیٹ فارم کو مضبوط اور فعال بنانے میں مصروف عمل تھے نادہندہ اور غیرجمہوری قوتیں بی این پی کی عوام میں پذیرائی اور کوئٹہ میں تمام شہریوں کے سماجی انصاف‘ انسانی حقوق کی برابری کے لئے پارلیمانی سیاسی جمہوری جدوجہد کے ذریعے یہاں کی عوام کو منظم اور متحد کرنے کی خاطر پارٹی کی طرف مبذول کرانے کی جدوجہد کررہے تھے حکمرانوں کے گماشتوں کا بخوبی یہ معلوم تھا کہ بی این پی جس انداز میں پارٹی کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے بلارنگ و نسل‘ مذہب‘ علاقہ‘ فرقہ اور صنفی تفریق سے بالاتر ہو کر جس انداز میں یہاں کے عوام کو منظم کرنے میں کامیابی کی طرف گامزن ہیں اس صورت میں حکمرانوں کے استحصال ظلم و جبر اور ناانصافیاں اور سازشوں میں رکاوٹ بن سکتے ہیں اور اسی رکاوٹ کو توڑنے کے لئے اور سیاسی جمود کو برقرار رکھنے کے لئے انہوں نے بی این پی کے نہتے کارکنوں کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے حقوق کی خاطر قومی جمہوری جدوجہد کا راستہ روکنے خوف و حراس کا ماحول پیدا کرکے حقیقی قوم وطن دوستی کی سیاست فکر و خیال کو کمزور کرنا چاہتا ہے انہوں نے کہا کہ شہید ملک نوید دہوار کے خاندان کے بلوچستان کی قومی سیاسی جدوجہد میں ایک طویل تاریخ ہے جو 1920ء کو انجمن اتحاد بلوچان سے لیکر مختلف پلیٹ فارم سے ہوتا ہوا بی این پی صورت میں قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں سرزمین اور قومی حقوق کی خاطر طرح طرح کی قربانیوں کا سامنا قید و بند کی صعوبتیں ریاستی اذیت خانوں میں ذہنی کیفیت اور طرح طرح کا ٹارچرز کا نہایت ہی خندہ پیشانی مستقل مزاجی کیساتھ وقت اور حالات کا مقابلہ کیا اور اپنی جانوں کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کیا سیاسی کارکنوں کے لئے ان شہداء کی قربانیاں مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے قومی حقوق کی جدوجہد کے لئے بی این پی کارکنوں کی ایک طویل تاریخ ہے جنہوں نے ہر آمریت اور نام نہاد جمہوری دور حکومت میں حق اور سچائی کے پرچم کو سربلند رکھتے ہوئے امر قوتوں کے سامنے سرخم تسلیم کرنے سے انکار کیا یہی وجہ ہے کہ ایک پارٹی کی مقبولیت اور عوامی پذیرائی اور تائید و حمایت میں اضافے کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری و ساری ہے آج بلوچوں کے علاوہ دیگر محکوم قومیں پشتون‘ سندھی‘ سرائیکی‘ ہزارہ و دیگر طبقات کالعدم نیپ کے بعد بی این پی یہاں کے عوام کی حقیقی معنوں میں نجات دہندہ اور ترجمان جماعت کی شکل میں موجود ہے اور پارٹی کے برزگ عظیم قوم وطن دوست سیاسی رہنماء سردار عطاء اللہ خان مینگل کی رہبری میں اور پارٹی کے قائد سردار اختر جان مینگل کی مدبرانہ غیرمتززل قیادت میں حقیقی معنوں میں بلوچوں اور یہاں کے محکوم قوموں کے حقوق کے لئے جدوجہد کو ایک چمکتے ہوئے ستارہ کی مانند سمجھتے ہیں جو ملک میں حقیقی معنوں میں قوموں کے ساحل ووسائل پر واک و اختیار پارلیمنٹ کی بالادستی‘ آئین کی حکمرانی‘ میڈیا اور عدلیہ کی آزادی سیاسی امور میں اداروں کی مداخلت الیکشن میں عوام کی رائے دہی کو چوری کرنے اور دیگر عوام دشمن اقدامات کے لئے پارلیمنٹ اور دیگر پارلیمنٹ فارم پر موثر انداز میں آواز بلند کرتے ہوئے غیر جمہوری قوتوں کے خلاف برسرپیکار ہیں اور پارٹی نے الیکشن میں بھاری مینڈیٹ کے باوجود شراکت اقتدار کے بجائے بلوچستان کو درپیش دیرینہ مسائل کو اجاگر اور حل کرنے کے لئے 06 نکات کا ایجنڈا دیا جس میں ہزاروں کی تعداد لاپتہ بلوچوں کی بازیابی سرفہرست ہے گوادر میں قانون سازی وفاقی محکموں میں بلوچستان کے لوگوں کو ملازمتوں کے حصول لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کا باعزت انخلاء‘ تعلیم‘ صحت کے لئے وہ نکات شامل ہیں جو اس سے پہلے کی سیاسی جماعتوں ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے اقتدار میں شراکت کو ترجیح دی لیکن بی این پی ایک نظریاتی و فکری سیاست اصولوں کو کاربند رہ کر یہاں کے عوام کے ساتھ الیکشن میں وعدہ وحید کیا تھا اس پر عمل کرنے کے لئے پارٹی نے پارلیمانی اداروں میں حکومتی بنچوں کے مرعات کے حصول کے بجائے ایوان میں بلوچستان کے دیرینہ مسائل کی موثر آواز کو دنیا کے کونے کونے میں جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی ہم اپنے عوام کے اعتماد و بھروسہ کو کسی بھی صورت ٹھیس نہیں پہنچائیں گے شہداء اور کارکنوں کی انتھک جدوجہد قربانیوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے سیاسی جمہوری انداز میں بلوچ قوم اور بلوچستان کے ایک ایک انچ اور ساحل ووسائل کا دفاع کریں گے کیونکہ ہمیں سب سے زیادہ یہاں کے عوام کی شناخت وجود‘ بقاء‘ سلامتی تمام تر چیزوں سے عزیز ہے اس موقع پر ہدایت اللہ جتک‘ شاہ خالد مینگل‘ نعمت ہزارہ‘کامریڈ صفعی اللہ ساتکزئی‘ حمید بلوچ‘ محمد ادریس پرکانی‘ابراہیم بلوچ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں