مدارس کے مسئلے پر ہڑتال نے صوبائی حکومت کی پالیسیوں کو یکسر مسترد کردیا، مولانا واسع
کوئٹہ (آن لائن) جمعیت علما اسلام بلوچستان کی اپیل پر صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع، ضلعی امیر مولانا عبدالرحمن رفیق، مولانا صلاح الدین ایوبی، مفتی محمد روزی خان، ملک سکندر خان ایڈوکیٹ، مولانا محمد رمضان مینگل، حاجی عین اللہ شمس، مولانا شیخ عبدالاحد، مولانا حافظ حسین احمد شرودی، میر یونس عزیز زہری، اصغر خان ترین، مولانا مفتی محمد احمد، صدر انجمن تاجران عبدالرحیم کاکڑ، سید یاسین آغا، حاجی رحمت اللہ کاکڑ، حافظ مسعود احمد، عبدالصمد حقیار اور دیگر رہنماں کی قیادت میں کوئٹہ کامیاب شٹرڈوان ہڑتال کے بعد شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس شہید کی بہیمانہ شہادت، مدارسِ دینیہ پر چھاپوں اور متنازع مائنز اینڈ منرلز بل کے خلاف کامیاب شٹر ڈان ہڑتال کی گئی جس میں کاروباری مراکز مکمل بند رہے اور ہزاروں کارکنان، عوام و تاجروں نے احتجاجی ریلیوں میں شرکت کی، اجتماع میں منظور کردہ قراردادوں میں مولانا ادریس شہید سمیت تمام شہدا علما کے قاتلوں کی فوری گرفتاری، اتحاد تنظیمات مدارس کے مطالبات پر چاروں صوبوں میں فوری قانون سازی، 26ویں آئینی ترمیم میں کیے گئے وعدوں کی پاسداری، مدارس کے خلاف جبری قوانین کے خاتمے، سیل شدہ مدارس کو فی الفور کھولنے، لاک ڈان کے نام پر تاجروں کے معاشی استحصال کے خاتمے، کوئٹہ میں بدامنی، لاقانونیت، فحاشی و مہنگائی کے سدباب اور مائنز اینڈ منرلز بل کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا گیا، صوبائی امیر مولانا عبدالواسع نے عوام و تاجر برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام مدارس کے تحفظ کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئے ہیں اور 10 مئی کا کوئٹہ مارچ مدارس دینیہ کے حقوق کے لیے فیصلہ کن موڑ ہوگا، جبکہ صوبائی جنرل سیکرٹری آغا محمود شاہ نے کہا کہ چمن سے تفتان اور سبی سے گوادر تک پورا بلوچستان جمعیت کی آواز پر متحد ہے، مقررین نے واضح کیا کہ مدارس پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں اور ان کے خلاف کسی سازش کو قبول نہیں کیا جائے گا، مظاہرین نے کہا کہ پاکستان علما کرام کے لیے قتل گاہ بن چکا ہے مگر ریاستی ادارے ناکام ہیں اور مدارس کے تحفظ کی جنگ ہر قربانی دے کر لڑی جائے گی۔دریں اثنا جمعیت علما اسلام بلوچستان کی اپیل پر صوبائی حکومت کی جانب سے مدارس کے خلاف کارروائیوں، مائنز اینڈ منرلز بل پر تحفظات اور شیخ مولانا محمد ادریس کی شہادت کے خلاف کوئٹہ، زیارت، قلعہ سیف اللہ، قلات، خضدار، حب، پشین، قلعہ عبداللہ، موسی خیل، چمن، ژوب، سبی، لورالائی، پنجگور، چاغی،نوشکی، ،ہرنائی ،نصیراباد، جعفر آباد،،تربت،واشک اور خاران سمیت بلوچستان کے تمام اضلاع میں بھرپور اور کامیاب شٹر ڈان ہڑتال کی گئی، جس کے دوران کاروباری مراکز مکمل طور پر بند رہے جبکہ ہزاروں کی تعداد میں کارکنان، عوام اور تاجر برادری نے ریلیوں اور احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی۔ جمعیت علما اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبد الواسع نے عظیم الشان اور پرامن احتجاج پر عوام، کارکنوں اور تاجر برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام مدارس کے تحفظ کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئے ہیں اور انہوں نے صوبائی حکومت کی پالیسیوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے، جبکہ 10 مئی کو کوئٹہ کی جانب مارچ ایک نئی تاریخ رقم کرے گا اور مدارس دینیہ بلوچستان کے حقوق کی توانا آواز بنے گا۔ صوبائی سیکرٹری جنرل آغا محمود شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ جمعیت علما اسلام ایک سنجیدہ، پرامن اور حقیقی عوامی جماعت ہے جس کی آواز پر چمن بارڈر سے تفتان اور سبی سے گوادر تک پورا بلوچستان متحد ہو کر احتجاج کرتا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام جمعیت علما اسلام کے مقف کے ساتھ کھڑے ہیں۔اسی طرح صوبہ بھر کے مختلف اضلاع میں مدارس کے خلاف حکومتی اقدامات کے خلاف منعقدہ احتجاجی مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علما اسلام کے قائدین نے کہا کہ مدارس دینیہ پاکستان کی روح، اساس اور نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں، جن کے خلاف کسی بھی قسم کی سازش یا کارروائی ناقابلِ برداشت ہے، انہوں نے کہا کہ کفری قوتوں اور مادر پدر آزاد این جی اوز کی ایما پر قادیانیت نواز سوچ کو خوش کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو قوم کسی صورت قبول نہیں کرے گی اور ان مذموم عزائم کو ہر سطح پر مسترد کیا جائے گا، قائدین نے واضح کیا کہ مدارس کے تحفظ اور بقا کی جنگ ہر صورت لڑی جائے گی اور اس راہ میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے عوام اور علما متحد ہو کر اپنے دینی اداروں کے دفاع کے لیے میدان میں نکل چکے ہیں اور 10 مئی کو کوئٹہ کی جانب عظیم الشان مارچ مدارس دینیہ کے حقوق کے حصول کی جدوجہد میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوگا۔ مظاہرین نے جمعیت علما اسلام پاکستان کے مرکزی شوری کے رکن شیخ مولانا محمد ادریس کی شہادت پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جید علما کرام کے لیے قتل گاہ بن چکا ہے مگر ریاستی ادارے مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں ۔


