پی پی ایچ آئی کے دیہی بنیادی مراکز صحت میں طبی سہولیات کا فقدان، عملہ غیر حاضر، مریضوں کو علاج معالجے میں مشکلات، حکومت نوٹس لے، عوامی حلقے
کوئٹہ (نیوز ڈیسک) پی پی ایچ آئی میں انتظامی اور مالی بے ضابطگیاں، بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پی پی ایچ آئی کے دیہی بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یو ایس) میں عملہ غیر حاضر، گھر بیٹھے تنخواہ لینے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ اس حوالے سے بعض ذرائع اور عوامی حلقوں کا بتانا ہے کہ پی پی ایچ آئی میں انتظامی اور مالی بے ضابطگیوں کے باعث عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے، بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پی پی ایچ آئی کے دیہی بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یو ایس) میں عملے کی غیر حاضری کے باعث طبی امور متاثر ہیں، عملہ گھر بیٹھے تنخواہ وصول کررہا ہے، پی پی ایچ آئی کے تحت چلنے والے بہت سے دیہی بنیادی مراکز صحت (BHUs) میں ڈاکٹرز، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور دیگر عملہ طویل عرصے سے غیر حاضر ہے۔ عملے کی غیر موجودگی کی وجہ سے مریضوں خاص طور پر خواتین اور بچوں کو علاج کے لیے دور دراز شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ محکمہ صحت بلوچستان نے دیگر منصوبوں جیسے 79 اضلاع میں پولیو مہم پر خصوصی توجہ دی ہے وہاں پی پی ایچ آئی کے مراکز میں حاضری یقینی بنانا ابھی بھی ایک چیلنج ہے۔ عوامی حلقوں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ان مراکز کی سخت مانیٹرنگ کی جائے اور غیر حاضر عملے اور گھر بیٹھے تنخواہ وصول کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔


