پارٹی کی مرکزی قیادت سے سیکورٹی واپس لینا قابل مذمت ہے،عوامی نیشنل پارٹی
کوئٹہ:عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی بیان میں پارٹی کی مرکزی قیادت سے سیکورٹی واپس لینے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ پارٹی قیادت سے لیکر کارکنوں تک نے دہشت گردی وانتہاپسندی کے خلاف صف اول کا کردار ادا کرتے ہوئے قوم اور وطن کی بقا کی خاطر ہزاروں جانوں کے قربانیاں دیں صوبہ پشتون خوا کے سابق وزیراعلی امیرحیدرخان ہوتی اکلوتے بیٹے کی قربانی دینے والے پارٹی کے سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین اور پارٹی کے صوبائی صدر پشتون خواایمل ولی خان سے سیکورٹی واپس لینا صوبائی حکومت کی بدنیتی اوربوکھلاہٹ کی عکاسی کرتی ہے عوامی نیشنل پارٹی پشتون خوا حکومت کی اس اقدام کی بھر پور مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ پارٹی قیادت سے سیکورٹی واپس لینے احکامات واپس لیں بصورت دیگرتمام ترذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی باچاخان مرکز سے جاری کردہ صوبائی بیان میں صوبہ پشتون خوا حکومت کی جانب سے پارٹی قیادت سے سیکورٹی واپس لینے کو صوبائی حکومت کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ پارٹی قیادت کو انتہاپسندی ودہشت گردی سے متعلق بیانیہ کے پاداش میں ان سے سیکورٹی واپس لینا جو نہ صرف قابل گرفت بلکہ قابل مذمت فعل ہے پارٹی کو اس طریقے سے راہ راست بر حق موقف سے دستبردار کرانا کسی صورت ممکن نہیں لہذا صوبائی حکومت ہوش کا ناخون لیتے ہوئے پارٹی قیادت کو ضروری سیکورٹی فراہم کردیں دریں اثناعوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کے مرکزی کمیٹی ممبر ملک عبیداللہ کاسی کی اغوا کے برخلاف کچلاک کتیراحتجاجی کیمپ میں صوبے سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنماوں قبائلی زعمااور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے متعدافراد نیاحتجای کیمپ آکر ملک یونس کاسی عوامی نیشنل پارٹی قبائلی جرگہ کے ارکان سے ہمدردی ویکجہتی کااظہار کیا اوراس ناروا عمل کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے اس عہد کااظہار کیاکہ اغواجیسی ناسورکی بیخ کنی کیلئے حکومت ریاست انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرلیں اس سے پہلے کہ عوام الناس اپنی تحفظ کے لیے خود اٹھ کھڑے ہوں حکمران وقت رعایاں کے جان ومال کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں لہذا ملک عبید اللہ کاسی کی باحفاظت بازیابی حکومت ریاست انتظامیہ کی ذمہ داری ہے


