شوران، جتنی جلدی ممکن ہوسکے زرعی شعبے کی بحالی کیلئے ہنگامی اقدامات اٹھائے جائیں،سردار یار محمد رند

کوئٹہ:شوران اور گرد و نواح میں طوفانی بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی درجنوں نشیبی علاقے زیر آب آگئے، سینکڑوں کچے مکانات مندم، مواصلات کا نظام درہم برہم اور رابطہ سڑکیں زیر آب آنے سے شوران کا رابطہ دیگر شہروں سے منقطع ہوگیا، شدید گرمی اور حبس میں متاثرین کھلے آسمان تلے حکومتی اقدامات کے منتظر، پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ منظر سے غائب، صورتحال کی سنگینی کے باعث علاقے میں وبائی امراض اور بھوک و پیاس سے اموات کا خدشہ پیدا ہوگیا، تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے علاقے شوران اور گردو نواح میں طوفانی بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی ہے سینکڑوں کچے مکانات منہدم ہوگئے ہیں نشیبی علاقے زیر آب آنے سے لوگ مال مویشی اور گھریلو سامان چھوڑ کر اپنی جان بچانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں مختلف دیہاتوں میں رات گئے سیلابی پانی داخل ہونے سے مقامی افراد اپنی جان بچانے کی تگ و دو میں لگ گئے اور اپنی مدد آپ کے تحت خواتین بچوں اور ضعیف العمر افراد کو سیلابی پانی سے نکالا جارہا ہے شدید طوفانی بارشوں اور سیلاب کے باعث شوران اور ملحقہ دیہاتوں کا رابطہ ڈویڑن و ضلعی ہیڈ کوارٹرز سمیت دیگر علاقوں سے منقطع ہو گیا ہے علاقے میں پی ڈی ایم اے یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی ریسیکیو یا ریلیف سرگرمیوں کا آغاز نہیں کیا گیا اور لوگ کھلے آسمان تلے حکومتی اقدامات کے منتظر ہیں سیلابی پانی، اور کھانے پینے کی اشیاء کی عدم دستیابی اور تیز گرمی و حبس کے باعث وبائی امراض اور بھوک و پیاس سے انسانی اموات کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے بلوچستان اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند نے رابطہ کرنے پر شوران اور گردو نواح میں ہونے والی تباہی کی تصدیق کی ہے انہوں نے بتایا کہ بارشوں اور سیلاب سے علاقے میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے زرعی بندات، گنڈھا جات، اور ہموار اراضیات سیلاب کی نظر ہوچکیں، مال مویشی بڑی تعداد میں ہلاک ہونے کے ساتھ ساتھ کچی آبادیاں منہدم ہونے سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد بے گھر ہو گئی ہے سردار یار محمد رند نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں تاحال کوئی خاطر خواہ ریسیکیو یا ریلیف سرگرمیاں شروع نہیں ہوئیں اور متاثرین شدید مشکلات کا سامنا کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ شوران اور گردو نواح کے علاقوں میں صورتحال سنگین ہے گزشتہ بارشوں اور سیلاب کی تباہی وزیر اعلی بلوچستان خود ملاحظہ فرما چکے ہیں ابتک گزشتہ تباہی سے بحالی نہیں ہوئی تھی کہ اب ایک بار پھر بارشوں اور سیلاب کے باعث علاقے میں وسیع پیمانے پر نقصاتات ہوئے ہیں سردار یار محمد رند نے کہا کہ لوگوں کے گزر بسر کا انحصار انہی زرعی اراضیات کی سالانہ پیداوار سے ہوتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ جتنا جلدی ممکن ہوسکے زرعی شعبے کی بحالی کے لئے ہنگامی اقدامات اٹھائے جائیں ورنہ معاشی کسمپرسی کے باعث لوگوں کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی نقل مکانی کر چکی اور باقی ماندہ بھی نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں گے انہوں نے کہا کہ محض پانچ کلو آٹے اور دو کلو چینی سے لوگوں کی ریلیف ممکن نہیں لوگوں کے ذریعہ معاش کی بحالی کو یقینی بنانا ہوگا اور زرعی نقصانات کا فوری ازالہ کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ معمولات زندگی کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ذرائع مواصلات اور رابطہ سڑکوں کی مرمت ناگزیر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں