پنجگور،سانحہ قدیر خلیل کیخلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ و ریلی
پنجگور:سانحہ قدیر خلیل کے قتل پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے احتجاجی ریلی اور مظاہرہ کیا گیا احتجاجی ریلی شہید جاوید چوک سے نکل کر پنجگور چتکان بازار کے اہم شاہراہوں سے ہوتے ہوئے نیشنل پریس کلب کے سامنے جمع ہوکر جلسے کی شکل اختیار کرلی احتجاجی مظاہرے میں شامل بچوں اور اسٹوڈنٹس سیاسی سماجی شخصیت نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرز اٹھائے ہوئے تھے مظاہرے میں سیاسی جماعت نیشنل پارٹی بی این پی مینگل مسلم لیگ ن جمعیت علمائے اسلام انجمن تاجران بارڈر ٹریڈ یونین و دیگر طبقہ فکر کے لوگ بھی شامل تھے احتجاجی مظاہرے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے آل پارٹیز کے چئیرمن بی این پی کے مرکزی جوائنٹ سیکریٹری میر نزیر احمد حاجی صالح حاجی عبد العزیز اشرف ساگر حاجی خلیل دہانی سیف اللہ سیفی شاہنواز بلوچ شامیر الطاف ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے پانچ دن گزر جانے کے باوجود بھی کسی قسم کا کوئی پیش رفت کا نہ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے انکی قانونی آئینی اخلاقی انسانی اقدار سرد طریقہ کار انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہیضلعی انتظامیہ کی جانب سے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے ایک لاکھ روپے کا اعلان ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ادارے اتنے کمزور ہوچکیہیں کہ وہ شہریوں سے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے بھیک مانگنے رہیہیں انہوں نے کہا ہے کہ آل پارٹیز قدیر خلیل کی قاتلوں کی قاتلوں کی گرفتاری کیلئے پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان کرتا ہے گھر گھر کا پتہ اداروں کے پاس ہے لیکن قاتل نامعلوم ہیں ایک غیر سنجیدگی مسخرہ خیز سوال ہے جب کسی کے گھر میں مرغی بھی انڈا دے اداروں کو معلوم ہے لیکن قاتل نامعلوم ہیں ادارے عوام کی جان و مال کی تحفظ کے زمہ دار ہیں انکے زبان سے قاتل نامعلوم زیب نہیں دیتا ہے انہوں نے کہا ہے کہ اس سے قبل بھی سوردو وشبود و مختلف شہریوں میں واقعات ہوئے ہیں ان پہ احتجاج بھی ہوئے لیکن تاحال زمہ دار اداروں کی جانب سے کوئی نتیجہ ہمیں نظر نہیں آتا بلوچستان کے عوام احتجاج کرنے روڑ بلاک کرنے دھرنا دینے لاش اٹھانے سے تھک چکے ہیں ہمیں مجبور کیا جارہا ہے کہ ہم دیگر غیر قانونی راہ اختیار کریں انہوں نے کہا ہے کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے کا طریقہ کار نشتا گفتا برخستا عوام کیلئے انتہائی مایوس کن ہیں،ابھی تک ضلعی انتظامیہ پولیس اور زمہ دار اداروں کی جانب سے کسی قسم کا عمل کا نہ ہونا قانونی آئینی خلاف ورزی کے سوا کچھ نہیں ہے انہوں نے کہا ہے کہ عوام نے اپنے حتی آلوسہ تمام اداروں کے دروازے کھٹکھٹائے ہیں سوائے مایوسی کے کچھ نہیں ملا ہے ہمیں بتایا جائے اب ہم انصاف کی امید کس سے کریں پورے ملک کو نامعلوم افراد کے ہاتھوں سونپ کر شریف شہری سیاسی سماجی شخصیت کے ساتھ اب بچوں کیلئے ملک کو ممنوعہ بنادیا گیا ہے انہوں نے کہا ہے پنجگور کا امن و امان نہ سیاسی سماجی علمائے کرام اسٹوڈنٹس سے خراب ہیں نہ کہ بچوں کے معصوم گفتار کردار سے خراب ہیں، امن و امان اداروں کی جانب سے پالے ہوئے مسلح جہتوں کی وجہ سے خراب ہے چوری ڈکیتی قتل انہی لوگ کررہے ہیں اور یہ مسلح جہت کس کے آشرباد سے پل رہے ہر کوئی جانتا ہے انہوں نے کہا ہے کہ ملک کا واحد صوبہ بلوچستان ہے جہاں ایک نام نہاد آئینی حکومت اور دوسرا جانب غیر آئینی جہتوں کی حکومت عوام پر مسلط ہے صوبائی حکومت کے نمائندے ترقی کے دعوے کررہے ہیں کہ ہم نے پنجگور کو ترقی دی ہے ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پنجگور کے عوام کو روڑ وترقی نہیں چاہئے جب ہمارے بچے محفوظ نہیں ہم روڑ کا کیا کریں گے انہوں نے کہا ہے قدیر خلیل کا قتل بارڈر احتجاج سے دیاں ہٹانے کا سازش تھا لیکن آل پارٹیز مسلے کے تہہ تک جانے بغیر خاموش نہیں بیٹھے گی انہوں نے کہا ہے کہ ہم قاتلوں کی گرفتاری کیلئے کویٹہ اسلام آباد تک احتجاج کرنے جائیں گے اس احتجاجی پروگرام کے نظامت خلیل نور صادق راہچار و دیگر نے نبھائی پروگرام کیآخر میں جمیعت علمائے اسلام کے ولی ساسولی نے قدیر خلیل کے ایصال ثواب اور قاتلوں کو تباہ و برباد کرنے کیلئے دعا کی دعا کے بعد مظاہرہ اختتام پذیر ہوئی۔


