بلوچستان ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن ہے، صادق سنجرانی
کوئٹہ:قائمقام صدر مملکت محمد صادق سنجرانی نے کہاہے کہ بلوچستان ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔ سی پیک کے منصوبوں کی بدولت نہ صرف صوبہ بلوچستان، ملک پاکستان ترقی کی نئی منزلیں طے کرے گابلکہ علاقائی ترقی و خوشحالی کا سورج بھی نئی آب وتاب کے ساتھ طلوع ہوگا۔ نوجوان نسل قوم کا مستقبل ہونے کے ناطے ملکی ترقی، خوشحالی اور اپنے روشن مستقبل کیلئے اپنا بھر پور کردار ادا کریں۔ان خیالات کا اظہار قائمقام صدر پاکستان محمد صادق سنجرانی نے یوم آزادی کے پر مسرت موقع پر پارلیمنٹ ہاس کا دورہ کرنے والے بلوچستان کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلبا طالبات کے وفد سے خطا ب کرتے ہوئے کیا۔ قائمقام صدر نے صوبہ بلوچستان کے 7 اضلاع کے طلبا وطالبات کے100 رکنی وفد کو پارلیمنٹ ہاس میں خوش آمدید کہا۔انہوں نے کہا کہ یہ امر انتہائی حوصلہ افزا ہے کہ بلوچستان کے طلبا و طالبات پر مشتمل وفد ان دنوں مطالعاتی دورے پر ہے اور اس دورے کی بدولت نوجوان نسل کو اہم قومی امور اور معاملات پر آگاہی حاصل ہوگی۔قائمقام صدر نے وفد کویوم آزادی کی مبارکباد دی اور کہا کہ بلوچستان کے 7 اضلاع کے طلبا وطالبات یہاں موجود ہیں جو پڑھے لکھے بلوچستان اور پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایوان بالا میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 23 سینیٹرز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کی ترقی اس ملک کیلئے بہت ضروری ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ملک بھر سے لوگ بلوچستان آئیں گے اور یہ صوبہ سب سے آگے ہوگا۔ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے قدرتی وسائل سے بھرپور استفادہ اور فروغ تعلیم ناگزیر ہے۔بلوچستان میں نوجوان نسل کے مستقبل کو روشن کرنے کیلئے وسیع مواقع موجود ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان نسل تعلیم حاصل کر کے ان سے فائدہ اٹھائیں۔ قائمقام صدر نے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال ہے اور سی پیک منصوبہ جات سے بلوچستان کی عوام اور خاص طور پر پڑھے لکھی نوجوان نسل بھرپور استفادہ حاصل کر سکتی ہے۔ اپنے مستقبل کو تابناک بنانے کیلئے نوجوان نسل کواعلی تعلیم حاصل کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم پر توجہ مرکوز کر کے وہ نہ صرف اپنے صوبے بلکہ پورے ملک کا قیمتی اثاثہ بن سکتے ہیں جو دنیا بھر میں پاکستان کی موثر نمائندگی کریں گے۔صوبہ بلوچستان ملک کے آدھے حصے پر مشتمل ہے۔ آبادی کم ہے مگر ملک و صوبے کی ترقی کیلئے وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں۔انہوں نے کہاکہ نوجوان نسل کسی بھی ملک کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں اور تعلیم یافتہ نوجوان قوم کی امیدوں اور خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ گوادر نہ صر ف ملک بلکہ خطے کا مستقبل بھی ہے جس سے فائدہ اٹھا کر نہ صرف بلوچستان کی تقد یر بدلی جا سکتی ہے بلکہ پورے ملک میں ترقی و خوشحالی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں تعلیم کے فروغ کیلئے اقدامات اٹھائے جار ہے ہیں عنقریب صوبہ بلوچستان کے علاقے چاغی اور گوادر میں یونیورسٹیاں قائم کی جائیں گی تاکہ وہاں کے لوگ اعلی تعلیم حاصل کر سکیں۔صوبہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع ہیں ہمیں ملازمتوں کے ساتھ ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری پر بھی زوردینا چاہیے۔ ملازمت سے ایک فرد جبکہ کاروبار سے ایک طبقہ مستفید ہوتا ہے۔ہمیں اپنے ملک اور خاص طور پر اپنے صوبے کی ترقی و خوشحالی کیلئے محنت، لگن اور ایمانداری سے کام کرنا ہوگا۔ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ ایوان بالا نے نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی کیلئے اہم کردارادا کیا ہے اور طلبا وطالبات کو پارلیمنٹ ہاس کے کام کی آگاہی کے حوالے سے مختلف وفود کو مدعو کیا تاکہ طلباو طالبات کا حوصلہ بلند ہو سکے تاکہ وہ ملکی سیاست میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے سکیں۔ قائمقام صدر نے کہا کہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم دنیا کو باور کروائیں کہ بلوچستان کی عوام ترقی پسند ہیں اور ترقی کیلئے نئی راہیں تلاش کر یں گے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل وقت ختم ہوچکا ہیں اور اب ہمیں آگے بڑھنے کیلئے میرٹ کے عمل کو یقینی بنانا ہوگااورنوجوان نسل کو روزگار کیلئے صوبے میں بڑھتے ہوئے ترقی کے مواقعوں سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ 10 سال پہلے کے صوبہ بلوچستان اور آج کے بلوچستان میں بہت فرق ہے۔ بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے وزیراعظم پاکستان عمران خان خصوصی توجہ دے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے دور حکومت میں اربوں روپے کے منصوبہ جات منظور کیے گئے ہیں جن میں سٹرکوں،اعلی تعلیمی اداروں سمیت دیگر بے شمار منصوبہ جات ہیں۔ محمد صادق سنجرانی نے طلبا وطالبات کے وفد کو ظہرانے کے دوران صوبہ بلوچستان کے حوالے سے درپیش مسائل کے سوالات کے تفصیلی جواب دیتے ہوئے کہا کہ گوادر میں بجلی اور پانی کے مسائل کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں انہوں نے ایران کا دورہ کر کے اور ایران کے نومنتخب صدر سے بجلی کے مسئلے پر تفصیلی مشاورت کی ہے۔ ایران کے صدر نے بجلی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تجارت کے فروغ کیلئے بارڈر پر 6 مقامات طے کیے ہیں جہاں سے تجارت کی جا سکے گی۔انہوں نے کہا کہ بجلی و پانی کا مستقل حل ایک سال کے اندر تلاش کر لیا جائے۔گوادر کونیشنل گرڈ سے بھی ملایا جارہا ہے اس کیلئے 18 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔ انہوں نے وفد کو یہ بھی بتایا کہ 50 میگاواٹ کے سولر پلانٹ لگانے سے ایک ضلع کی بجلی کی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے اور پانی کے مسئلے کے حل کیلئے قائمقام صدر پاکستان نے کہا کہ نمکین پانی کومیٹھا بنانے کیلئے منصوبہ لگایا جائے گا جو پانی کے مسئلے کا مستقل حل ہے۔صوبہ بلوچستان میں سولر، ونڈ و دیگر ذرائع سے بھی بجلی پیدا کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔فروغ تعلیم و ظائف کی فراہمی کے حوالے سے قائمقام صدرنے کہا کہ بلوچستان کے 300 بچوں کی اعلی تعلیم کیلئے چین کی حکومت سے وظائف کی فراہمی کیلئے بات کرونگااگر چین کا دورہ بھی کرنا پڑا تو ضرور جاں گا۔ بلوچستان کے بچوں کو ملک کے دیگر بچوں کی طرح اعلی تعلیم یافتہ بنانے کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھاں گا۔ سعودی حکومت نے بھی وظائف اور اعلی تعلیم کے حوالے سے 50 سے60 بچوں کی تفصیلات طلب کی ہیں وہاں بھی بلوچستان کے بچوں کو بھیج کر اعلی تعلیم حاصل کرائی جائے گی۔گوادر میں روزگار کے حوالے سے قائمقام صدر نے کہا کہ مقامی آبادی کو ٹیکنکل تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔گوادر میں کام کرنے والی کمپنیوں کے پاس روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں جس سے فائدہ اٹھایا جائے اور ان کمپنیوں میں ملک کے دیگر حصوں سے بھی لوگ آتے ہیں ہمیں ان سے سیکھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان 11 لاکھ نوجوانوں پر مشتمل ہے اگر ان کو موثر تعلیم اور سہولیات فراہم کی جائیں تو ملکی ترقی اور خاص طور پر صوبہ بلوچستان کی تقدیر بدلنے کیلئے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ صوبہ بلوچستان کی حکومت کے ساتھ بھی معاملات اٹھاں گا اور صوبے میں تجارت، سرمایہ کاری کے فروغ اور منصوبہ جات کی تکمیل کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔ قائمقام صدر نے پارلیمنٹ کا دورہ کرنے والے طلبا وطالبات کے وفد کے ہمراہ یوم آزادی پاکستان کا کیک کاٹا اور قائمقام صدر نے وفد کو اعزازی شیلڈبھی پیش کی۔وفد نے قائمقام صدر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس دورے سے انہیں نہایت اہم معلومات اور پارلیمنٹ کے امور کو سمجھنے میں مدد ملی ہے اور پارلیمنٹ کا دورہ کر کے بہت خوشی محسوس ہوئی ہے۔ بلوچستان کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلبا طالبات کے وفد نے سینیٹ میوزیم اور سینیٹ ہال کا دورہ بھی۔قائمقام صدر کی جانب سے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا گیا۔ ظہرانے میں سینیٹرز پرنس احمد عمراحمد زئی، نصیب اللہ بازئی، ثنا جمالی اور سینیٹ کے اعلی حکام بھی شریک تھے۔


