اقوامِ متحدہ کے اداروں کا افغانستان میں امدادی کام جاری رکھنے کا عزم

نیویارک:اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اس کے مختلف ذیلی ادارے افغانستان میں اپنا امدادی کام جاری رکھیں گے تاکہ طالبان کی پیش قدمی سے پیدا ہونے والی صورتِ حال میں وہ افغان عوام کو امداد پہنچاتے رہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق اقوامِ متحدہ کے انسانی امور کے معاون ادارے کے ترجمان جینز لیرک نے بتایا کہ اقوامِ متحدہ گزشتہ 70 برس سے افغانستان میں بغیر کسی تعطل کے اپنا کام انجام دے رہا ہے اور اس کا عملہ ملک میں آج بھی میں موجود ہے۔البتہ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ اپنے افغان اور بین الااقوامی عملے کی حفاظت کے لیے فکر مند ہے اور ان کی سلامتی کی خاطر حالات کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔ان کے بقول اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان کی موجودہ صورتِ حال غیر مستحکم ہے اور تیزی سے بدل رہی ہے۔ لیکن ہم اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ یہ ہمارا ارادہ ہے کہ ہم یہاں موجود ہو کر افغان عوام کے لیے کام کرتے رہیں گے۔ افغانستان میں ہمارا معاہدہ افغانستان کے لوگوں، سویلین سے ہے اور ہم ان کے لیے یہاں موجود رہیں گے اور ان کی امداد جاری رکھیں گے۔لیرک کے مطابق رواں سال مئی سے لڑائی کی وجہ سے لوگوں کی نقل مکانی میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی اثنا میں امریکہ اور نیٹو کی افغانستان میں کئی برسوں سے تعینات فوجوں کا انخلا تیزی سے جاری رہا۔ ان کے نکلنے سے پہلے افغانستان میں نقل مکاں ی کرنے والوں کی کابل میں تعداد 21 ہزار تک ریکارڈ کی گئی تھی۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کئی ہزار لوگوں نے دارالحکومت کابل کا رخ کیا ہے۔ ان میں زیادہ تر لوگوں کے پاس سونے کی جگہ نہیں اور انہیں امداد دینا دشوار ہوتا جارہا ہے۔ تاہم ان لوگوں کو امداد فراہم کرنے کے لیے کام جاری ہے۔ان کے بقول انسان دوست امداد دینے والے کارکنان کی حیثیت سے ہم طالبان سمیت کسی کے ساتھ بھی مل کر کام کریں گے تاکہ ضرورت مند افراد تک امداد پہنچائی جائے۔ اور ہم ایسا غیر جانبداری اور امداد کی فراہمی میں آزادانہ کام کرنے کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے کریں گے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق اس وقت چار لاکھ بے گھر ہونے والے افراد کو امداد کی ضرورت ہے۔یہ تنظیم ضرورت مند لوگوں کو کھانا، پناہ دینے اور حفظانِ صحت کی امداد فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں