بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کرپشن اور نااہلی کا مر کز بن چکا ہے، ینگ ڈاکٹر ایسو سی ایشن

کوئٹہ:ینگ ڈاکٹر ایسو سی ایشن کے صدر احمد عباس نے کہا ہے کہ بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کرپشن اور نااہلی کا مر کز بن چکا ہے ہسپتال میں استعمال کی گئی اشیاء کباڑی میں فروخت کی جاتی ہیں اوراستعمال شدہ چیزیں واپس ری نیو ہو کر استعمال میں آجاتی ہیں،ایچ آئی وی کے مریضوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو تا جا رہا ہے حکومت بلو چستان ڈبلیو ایچ او اورعدالت عالیہ سے اپیل کر تے ہیں کہ اس طرح کے ما فیا اور کرپٹ آفیسرز اور انکے آلہ کاروں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے تاکہ صوبے میں بڑھتے ہوئے ایڈز اور دیگر بیماریوں کے کیسز کو کنٹرول کیا جاسکے۔ یہ بات انہوں نے منگل کو بی ایم سی کوئٹہ میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ ہسپتال میں ادویات تک ناپید ہوچکی ہیں استعما ل شدہ سرنج ڈرپس وغیر جنکا تلف کر نا لازمی ہے انکو دوبارہ ری نیو کر وا کر استعمال میں لایا جا رہا ہے جس کی وڈیو آپ کو فراہم کر دیں گے جب ہم نے ویڈیو بنائی تو آفر کی گئی کے پیسے لے لو معاملہ دبا دو انہوں نے کہاکہ میں خود سرجن ہوں آپریشن تھیٹر میں سرنج تک مریض سے منگواتے ہیں محکمہ صحت کی نا اہلی کی وجہ سے یہاں ادوایات میسرنہیں ہیں اربوں روپے کابجٹ ملتا ہے لیکن ہمیں سرنج تک نہیں ملتی ایچ آئی وی کے مریضوں دن بد بڑھتے جا رہے ہیں سرنج استعمال کے بعد واپس استعمال کے قابل بنا کر لائی جا رہی ہے میڈیسن وارڈ میں ایچ آئی وی کے مریضوں کی بڑی تعداد آرہی ہے ہم نے واقعہ سے متعلق پہلے میڈیکل سپرئنڈنٹ سے بات کی ہے اسپتال کے ایم ایس اور دیگرذمہ داران خاموش ہیں جو شخص یہاں سے یہ چیزیں لیجاتا ہے اْسے کوئی نہیں جانتاانہوں نے کہاکہ کچرہ اْٹھانے والوں کو 15 ہزار تنخواہ دی جارہی ہے انہوں نے کہاکہ حکومت بلو چستان ڈبلیو ایچ او اورعدالت عالیہ سے اپیل کر تے ہیں کہ اس طرح کے ما فیا اور کرپٹ آفیسرز اور انکے آلہ کاروں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے تاکہ صوبے میں بڑھتے ہوئے ایڈز اور دیگر بیماریوں کے کیسز کنٹرول کیا جاسکے انہوں نے کہاکہ حکومت نوٹس لے یہ انسانی زندگیوں کو سنگین خطرات کا معاملہ ہے جب بی ایم سی جیسے بڑے اسپتال میں یہ سب ہو رہا ہے تو ضلعی سطح پر کیا حال ہوگا

اپنا تبصرہ بھیجیں