موجودہ آئینی ڈھانچے میں صوبوں کو نئے سرے سے متعین کرنے کا کوئی قانونی طریقہ کار ہے نہ کوئی ٹھوس بنیاد،ثناءاللہ بلوچ
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابقہ صوبائی وزیر بلوچستان ثناءاللہ بلوچ نے اپنے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ میرا نقطہ نظر سادہ ہے، موجودہ آئینی ڈھانچہ صوبوں کی حدود کو نئے سرے سے متعین کرنے یا انہیں دوبارہ تشکیل دینے کے لیے نہ تو کوئی قابلِ اعتبار قانونی طریقہ کار فراہم کرتا ہے اور نہ ہی کوئی ٹھوس اخلاقی بنیاد۔ لہٰذا، وفاقی نقشے میں بنیادی تبدیلی کی کسی بھی سنجیدہ کوشش کو محض جزوی آئینی ترامیم سے آگے بڑھ کر خود آئین کے بنیادی ڈھانچے (آرکیٹیکچر) کا سامنا کرنا ہوگا۔اگر اسٹیبلشمنٹ واقعی یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان کو ایک نئے وفاقی اور انتظامی نظام کی ضرورت ہے، تو اسے ‘آئین ساز اسمبلی’ کے قیام کی حمایت کرنے کی سیاسی جرات کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اس کا مقصد اوپر سے کوئی نیا انتظام مسلط کرنا نہیں، بلکہ وفاق میں شامل عوام کو اس بات کا موقع دینا ہونا چاہیے کہ وہ ‘یونین’ (وفاق) کی شرائط پر اجتماعی طور پر نئے سرے سے بات چیت کر سکیں۔اس عمل کا مقصد محض صوبائی حدود کی ازسرِ نو تشکیل نہیں ہونا چاہیے۔ اسے آئینی معاہدے کو خود، ایک ایک شق کے ساتھ، نئے سرے سے مرتب کرنا چاہیے اور ان ساختی خامیوں کا ازالہ کرنا چاہیے جن کے نتیجے میں سیاسی محرومی، غیر متوازن ترقی، حد سے زیادہ مرکزیت، کمزور صوبائی خودمختاری، بگڑے ہوئے مالیاتی انتظامات اور مسلسل جمہوری عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔لہٰذا، سوال یہ نہیں ہے کہ پاکستان میں کتنے صوبے ہونے چاہئیں۔ زیادہ بنیادی سوال یہ ہے کہ ہم کس قسم کا وفاق تعمیر کرنا چاہتے ہیں، اور کون سا آئینی نظام اپنے تمام اکائیوں کے لیے سیاسی مساوات، معاشی انصاف اور بامعنی خود مختاری کی ضمانت دے سکتا ہے؟اگر ہم اصلاحات کے بارے میں سنجیدہ ہیں، تو ہمیں پورے آئینی ڈھانچے پر نئے سرے سے غور کرنے کی جرات کرنی چاہیے—نہ کہ موجودہ نظام میں ردوبدل کر کے کوئی ایسا انتظام تشکیل دیا جائے جو محض سیاسی طور پر سہولت بخش ہو۔


