نظیمی اصولوں کی خلاف ورزی کرنےپرنعیم بلوچ کا رکنیت ختم،ایس ایس ایف

خضدار : سیو اسٹوڈنٹس فیوچر کے مرکزی کابینہ کا اجلاس زیر صدارت چیئرمین فضل یعقوب بلوچ منعقد ہوا جس میں اکثریتی عہدیداران نے شرکت کی، جہاں مختلف ایجنڈے زیر بحث رہے.

اجلاس کی نظامت تنظیم کے جنرل سیکریٹری قدیر شیخ نے سنبھالے اور انہوں نے تنظیمی کارکردگی رپورٹ پیش کیا جس کا بغور جائزہ لیا گیا اس پر تنقیدی تبصرہ بھی کرلیے اور کمیوں کو پورا کرنے کا سعی کیا گیا.

دوسرے ایجنڈے میں تنظیمی امور پر تفصیل سے گفتگو ہوا اور ایس ایس ایف کی موجودہ صورتحال میں بطور ایجوکیشنل آرگنائزیشن جامعہ بحث ہوا. ایس ایس ایف کی موجودہ دور میں مقام پر ساتھیوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا خضدار کی سطح پر ایس ایس ایف قابل اعتماد اور قابل قبول واحد طلبا تنظیم ہے. جس میں طلبا و طالبات نہ صرف اپنی مستقبل محفوظ سمجھتے ہیں بلکہ تنظیم کو اپنے لیے نظریاتی مسکن تصور کرتے ہیں.

مزید انہوں نے کہا کہ یہ بھی ایس ایس ایف کی کامیابی ہے کہ شروع شروع میں جب ہم نے کیریئر کائونسلنگ کا کام شروع کیا تو مختلف خود ساختہ دانشوروں اور نام نہاد سیاسی کارکنوں و تنظیموں نے اسے غیر سیاسی پن قرار دیا تھا مگر آج وہ خود اسی موضوع پر تقریب و سیمنار منعقد کررہے ہیں. حتی کہ جو شخص یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ ایڈمیشن و اسکالرشپ سے بلوچ کو کوئی فائدہ نہیں آج وہ نام نہاد انقلابی کارکنان بھی صرف ایڈمیشن اور اسکالرشپ سوشل میڈیا شئر کرتے نہیں تھکتے.

مزید ساتھیوں نے کہا کہ ہمیں انکی اس عمل سے کوئی حسد نہیں بلکہ ہمارے لیے خوشی اور اعزاز کی بات ہے کہ ماضی کے ایس ایس ایف کے کٹر مخالفین بھی آج اسکی بادل ناخواستہ تقلید و تائید کررہے ہیں.

اس کے علاوہ ساتھیوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ایس ایس ایف کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ماضی میں جو لوگ تنظیم کی بنیاد پرستوں، قدامت پسندوں، رد انقلابی اور جنونی شدت پسندوں کی حوصلہ شکنی کو درست تسلیم نہیں کررہے تھے آج وہ صاحبان خود ان جمود کے شکار اور جنونی شدت پسندوں کی طرف سے ہراسمنٹ و تذلیل کے شکار ہیں. صرف یہ نہیں بلکہ انکی اچھی خاصی حمایتی کھیپ بھی ان کے ساتھ دوبدو ہے.

مزید اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا گیا کہ آج ایس ایس ایف کی بدولت انٹرمیڈیٹ اور میٹرک کے طلبا و طالبات پاکستان کے مختلف تعلیمی اداروں میں ایڈمیشن اور اسکالرشپس کے بارے میں مکمل معلومات رکھتے ہیں اور کئی طلبا و طالبات نے ایس ایس ایف کے زریعے تعلیمی اداروں میں داخلہ حاصل کرچکے ہیں.

اس کے علاوہ عہدیداران نے کہا کہ خضدار میں کتب بینی کی بڑھتی ہوئی شوق اور نئے لکھاریوں اور قاریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ایس ایس ایف کی جدوجہد کا ثمر ہے. بلکہ یوں کہیں کہ خضدار میں دس سالہ جمود کو توڑنے اور اسٹوڈنٹ ایکٹوزم کو بحال ایس ایس ایف نے کیا تو غلط نہیں ہوگا. اس سے پہلے اگر کوئی تنظیم تھا تو محض کسی تعلیمی ادارے کی اندر تک محدود تھا لیکن یوں پبلک تقریب منعقد کرنے اور تنظیمی سرگرمیاں کرنے والا گرائونڈ پر کوئی نہیں تھا. لیکن آج ہر اتوار کو دو سے تین تنظیموں کی جانب سے کسی ایک سرگرمی کی کال ضرور آتی ہے، جو کہ خوش آئند ہے.

آخر میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا گیا اور کچھ فیصلے کیے گئے کہ تنظیم کی بنائی ہوئی سیلیبس کے مطابق کارکنان کو کتابیں دیا جائے گا، تنظیم کی ہر سرگرمی کے بعد ایک تنقیدی نشست رکھا جائے گا جہاں تمام کمی اور کوتاہیوں کا جائزہ لیا جائے گا. کارکنان کےلیے ماہانہ تربیتی ورکشاپس منعقد کیے جائیں گے. کتب بینی کی فروغ کےلیے ایک مہم کا آغاز کیا جائے گا. خضدار میں مختلف ادبی بیٹھک منعقد کیے جائیں گے.

اس کے ساتھ ہی تنظیم کے ترجمان سنگت نعیم بلوچ کو کئی مرتبہ تنبیہ اور ہدایت کے باوجود بار بار تنظیمی اصولوں کی خلاف ورزی اور غیر سنجیدہ رویہ کی وجہ سے چند دن پہلے انہیں شوکاز نوٹس دیا گیا. جس کا سنجیدگی سے جواب دینے کے بجائے انہوں نے راہ فرار اختیار کیا اور مسلسل ساتھیوں کی رابطہ کے باوجود بھی انکی جانب سے کوئی مثبت رویہ سامنے نہیں آیا. لہذا متفقہ طور پر سنگت نعیم بلوچ کو عہدہ سے ہٹانے اور رکنیت ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا.

تمام عہدیداروں کی متفقہ رائے کے بعد کابینہ کی مدت پوری ہونے تک عہدہ کو خالی چھوڑنے کا فیصلہ کیا گیا اور ترجمان کے اختیارات اور فرائض تنظیمی کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری سنگت فیاض بلوچ کو سونپ دی گئی.

اپنا تبصرہ بھیجیں