ضمانت قبل ازگرفتاری کا قانون میں کوئی ذکر ہی نہیں: جسٹس عمر عطا بندیال
اسلام آباد(انتخاب نیوز) سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے ضمانت قبل ازگرفتاری کا قانون میں کوئی ذکر ہی نہیں اور ضمانت قبل ازگرفتاری اسی صورت ہوتی ہے اگر مقدمہ بظاہر بدنیتی پر مبنی ہو۔سپریم کورٹ میں 13 ڈکیتیوں میں ملوث ملزم کی ضمانت کے کیس کی سماعت ہوئی جس میں جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ضمانت قبل ازگرفتاری کا قانون میں کوئی ذکر ہی نہیں، ضمانت قبل ازگرفتاری کا راستہ عدالتی فیصلے کے ذریعے 1948 میں نکالا گیا۔
دورانِ سماعت جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ ملزم پر چوری ڈکیتی اور لوٹ مار کے 13 مقدمات ہیں، ضمانت قبل ازگرفتاری خاص حالات میں ملنے والی رعایت ہے، عادی ملزم کو خصوصی رعایت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے اعجاز عرف جیری کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی جس کے بعد ملزم کو عدالت سے ہی گرفتار کرلیا گیا۔


