بلوچستان میں ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام کے تحت صرف60لاکھ درخت لگائے گئے، سینیٹردینیش کمارکا انکشاف

اسلام آباد/کوئٹہ :بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹردینیش کمار نے انکشاف کیاہے کہ بلوچستان میں ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام کے تحت صرف60لاکھ درخت لگائے گئے ہیں، پلاننگ کمیشن حکام ان 60لاکھ پودوں کی تفصیلات کمیٹی کو پیش کریں گزشتہ روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی وترقی، خصوصی اقدامات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت منصوبہ بندی کی جانب سے پی ایس ڈی پی کے منصوبہ جات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ پلاننگ کمیشن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پی ایس ڈی پی کے تحت 1 ہزار 155 منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔710 منصوبوں پر پہلے سے اور 445 نئے منصوبے پی ایس ڈی پی میں شامل ہیں اورپہلے سے جاری منصوبوں کیلئے رکھی گئی رقم 7 ہزار278 ارب ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ نئے 445 منصوبوں کیلئے 2ہزار 144 ارب روپے ہیں۔جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ پہلے سے جاری منصوبوں اور نئے منصوبوں کی مکمل تفصیلات کہاں ہیں؟ پلاننگ منسٹری حکام نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ منصوبوں کی تفصیلات کمیٹی کو فراہم کر دیں گے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کچھ منصوبے عرصوں سے پڑے ہیں ان پر کام کیوں نہیں ہورہا۔کمیٹی نے پی ایس ڈی پی کے تحت تمام منصوبوں کا ریکارڈ طلب کرلیا۔قائمہ کمیٹی کو پلاننگ منسٹری حکام نے بتایا کہ 9 سو ارب میں سے انفراسٹرکچرکیلئے 62 فیصد رکھا گیاہے۔انفراسٹرکچر میں ٹرانسپورٹ کمینوکیشن،پانی،توانائی اور ہاسنگ شامل ہیں۔کل بجٹ میں سے 20 فیصد سوشل سیکٹر کیلئے استعمال ہورہا ہے۔سال 2020-21 کیلئے 9 سو ارب روپے رکھے گئے۔8سو ارب کے منصوبوں کی تکمیل پاکستان خود سے کر رہا ہے۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام پرفزیکل پراگرس31 فیصد ہو چکی ہے۔سینیٹر دنیش کمار نے بتایا کہ پاکستان کا 45 فیصد رقبے پر مشتمل صوبہ بلوچستان میں صرف 60 لاکھ درخت لگائے گئے ہیں۔سینیٹر شہادت اعوان نے بلین ٹری سونامی منصوبے میں لگائے گئے درختوں کی تعداد محض درجنوں میں بتائی۔سینٹردنیش کمارنے کہا کہ بلوچستان کیلئے صرف 60 لاکھ پودے رکھے گئے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹرسلیم مانڈوی والا نے کہا کہ رقبے کے لحاظ سے 45 فیصد کا بلوچستان ہے حیران کن بات ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے دو ارکان کو پورے صوبے میں کوئی پودا نہیں دکھائی دیا ہے۔سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ پلاننگ کمیشن حکام ان 60لاکھ پودوں کی تفصیلات کمیٹی کو پیش کریں۔قائمہ کمیٹی نے وزارت موسمی تغیرات کو اس حوالے سے صوبہ وائز تفصیلات کے ساتھ اگلی میٹنگ میں طلب کرلیا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پلاننگ منسٹری حکام کی جانب سے ہائیڈرو پاور منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔حکام نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا منصوبہ 2 ہزار 160 میگاواٹ کا ہے۔ایکنک نے داسو کی منظوری جولائی 2019 میں دی تھی اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی 15 فیصد فزیکل پراگرس ہے۔داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا منصوبہ فروری 2025 میں مکمل ہو جائے گا۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ منگلا پاوراسٹیشن کی ایکنک نے 2013 میں منظوری تھی اورمنگلا پاور اسٹیشن کا منصوبہ 310 میگا واٹ کا ہے۔اس پاور اسٹیشن کی فزیکل پراگرس 48 فیصد ہے جو کہ جون 2024 میں مکمل ہو جائے گا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پلاننگ منسٹری حکام کی جانب سے منصوبوں کی مانیٹرنگ نہ ہونے کا انکشاف کیا گیا۔جس پر اراکین کمیٹی کی جانب سے منصوبوں کی مانیٹرنگ نہ ہونے پرتحفظات کا اظہار کیا۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ منگلا اور تربیلا کی مانیٹرنگ مکمل ہونے کا ڈیٹا کمیٹی کو فراہم کریں۔قائمہ کمیٹی کو پلاننگ منسٹری حکام نے بتایا کہ ان منصوبوں پر وزارت پانی و توانائی کو کمیٹی اجلاس میں بلائیں۔چیئرمین کمیٹی نے حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ کیا کر رہے ہیں۔ہمیں مکمل تفصیلات چاہئے۔قائمہ کمیٹی نے پلاننگ کمیشن سے اس حوالے مکمل رپورٹ طلب کر تے ہوئے مکمل تیاری اور دستاویزات کے ساتھ آنے کی ہدایت کر دی۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر کے ایصال ثواب اور مغفرت کیلئے دعا کی گئی اور ان کی ملک کیلئے خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔حکام وزارت منصوبہ بندی نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ایس ڈی جیز منصوبوں میں وزارت منصوبہ بندی کا کوئی کردار نہیں ہے۔ایس ڈی جیز منصوبوں کی مانیٹرنگ وزارت منصوبہ بندی نہیں کرتی۔سینیٹر ہدایت اللہ نے کہا کہ ایس ڈی جیز منصوبوں پر عملدرآمد وفاقی ادارہ پی ڈبلیو ڈی کرتا ہے۔قائمہ کمیٹی نے دی پاکستان چائنہ ایکنامک کوریڈور ترمیمی بل 2021 پر بحث کو متعلقہ ممبزر نہ ہونے کے باعث مخر کر دیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے گوادر میں جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں کی تفصیلات جاننے کیلئے اگلی میٹنگ میں جی ڈی اے، گوادر پورٹ اتھارٹی اور پی ایس ڈی پی بلوچستان اور دیگر متعلقہ حکام کو طلب کرلیا۔سی او او نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) کی طرف سے سیل کی کارکردگی پر ایک جامع بریفنگ دی گئی۔ نیشنل لاجسٹک بورڈ (این ایل بی) کی تشکیل کے حوالے سے سینیٹرسعدیہ عباسی نے سفارش کی کہ ارکان پارلیمنٹ کو بھی این ایل بی میں نمائندگی دی جائے۔ ان کی سفارش کی چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے تائید کی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سبی تا ہرنائی سے ایک ریلوے ٹریک بچھا دیا گیا ہے لیکن ابھی تک آپریشنل نہیں ہے جس کے لیے مانڈوی والا نے وزیر ریلوے سینیٹر اعظم خان سواتی کو مذکورہ ٹریک کو جلد سے جلد چلانے کے لیے خط لکھنے کا فیصلہ کیا۔ پی ایس ڈی پی میں سڑکوں کے حوالے سے مفصل بریفنگ کیلئے چیئرمین کمیٹی نے اگلی میٹنگ میں این ایچ اے کو بھی کمیٹی کی اگلی میٹنگ میں طلب کرلیا۔قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرزسعدیہ عباسی، ہدایت اللہ،پلوشہ خان،شہادت اعوان،دنیش کمار، کہدہ بابر، اعجاز چودھری،دوست محمد خان کے علاوہ وزارت پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور این ایل سی حکام نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں