اغواء ہونیوالے دونوں طلباء کو بازیاب کرایا جائے، ڈاکٹرکلیم اللہ کی پریس کانفرنس

کوئٹہ:اے ایس اے کے صدرپروفیسر ڈاکٹرکلیم اللہ بڑیچ ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر شاہ علی بگٹی اور آفیسر ایسوسی ایشن کے چیئرمین نذیراحمد لہڑی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جامعہ بلوچستان کے ہاسٹل سے اغواء ہونے والے دونوں طلباء کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور مستقبل میں طلباء،اساتذہ،آفیسرز اور ملازمین کو تحفظ فراہم کیا جائے جامعہ بلوچستان و دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں سے فورسز کے انخلا کو یقینی بنایا جائے۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی آف بلوچستان کے پاکستان اسٹیڈیز کے دو طلباء سہیل بلوچ اور فصیح بلوچ کو یکم نومبر کو جامعہ بلوچستان کے ہاسٹل سے اغواء کیاگیا جوکہ ابتک لاپتہ ہیں جامعہ بلوچستان کے طلباء نے جامعہ کے وائس چانسلر سے رابطہ کیا تو انہوں نے طلبہ سے ہمدردی اوراغواء شدہ طلبہ کی بازیابی کی بجائے سردمہری اورہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے کہا کہ طلباء نے تین روز تک وائس چانسلر سیکرٹریٹ کے سامنے اغواء شدہ طلباء کی بازیابی کیلئے مظاہرے کئے لیکن وائس چانسلر کی طرف سے مسلسل یہ کہا جارہا تھا کہ دونوں طلباء جامعہ کی حدود سے باہراٹھائے گئے ہیں جس سے انکا کوئی سروکارنہیں ہے جس پرطلباء تنظیموں نے چوتھے روز جامعہ کے مین گیٹ پر دھرنا دیا اوروائس چانسلرسیکرٹریٹ و دیگرشعبہ جات کے سامنے احتجاج کیا جبکہ جامعہ کے وائس چانسلر نے طلباء سے ہمدردی اوراظہار یکجہتی کی بجائے انکو دھمکیاں دیں اورکہا کہ اگرطلباء نے اپنا رویہ تبدیل نہیں کیا اور دھرنا ختم نہیں کیاتو انکو بھی اٹھایا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی طرف سے صوبائی وزیر سردارعبدالرحمن کھیتران کی سربراہی میں ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی تو انہوں نے احتجاج پر بیٹھے طلباء تنظیموں سے چار روز کی مہلت مانگی اور ساتھ ہی اس ضمن میں جامعہ کے وائس چانسلر و دیگر اعلیٰ افسران سے ملاقات کی تو طلباء نے اپنا احتجاجی دھرنا موخر کردیا۔انہوں نے کہا کہ وائس چانسلر مسلسل غلط بیانی اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہے ہیں جس پر پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ صوبائی وزیرسردارعبدالرحمن کھیتران اور دیگر اسمبلی ممبران نے وائس چانسلر کے منفی اوراشتعال انگیز رویے پراسمبلی فلور پر افسوس کا اظہار کیا۔انہوں ے کہا کہ جامعہ بلوچستان صوبے کی سب سے بڑی تعلیمی درسگاہ ہے جامعہ بلوچستان و دیگر جامعات کو چلانے کیلئے صوبائی اسمبلی سے ایکٹ پاس کئے گئے جس میں وائس چانسلر کی تعیناتی سے لیکر تمام امور کوچلانے کیلئے پالیسی ساز ادارے جس میں سنڈیکیٹ،اکیڈمک کونسل،سینٹ اورفنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جن ے درج شدہ شیڈول کے مطابق اجلاس ہونے چاہئے تاکہ وائس چانسلر سمیت دیگراعلیٰ انتظامی افسران ان پالیسی ساز اداروں کے منتخب اوردیگر ممبران کو جوابدہ ہوں اور تمام امور کومشاورت سے چلایا جاسکے لیکن جب سے موجودہ وائس چانسلر کی غیرقانونی تعیناتی ہوئی ہے انہوں نے کسی بھی پالیسی ساز ادارے کا اجلاس منعقد نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جامعہ بلوچستان کے ہاسٹل سے اغواء ہونے والے دونوں طلباء کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور مستقبل میں طلباء،اساتذہ،آفیسرز اور ملا زمین کو تحفظ فراہم کیا جائے جامعہ بلوچستان و دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں سے فورسز کے انخلا کو یقینی بنایا جائے اور وائس چانسلر کو فوری طورپر برطرف کرکے کسی علم و صوبہ دوست پروفیسر کو وائس چانسلر تعینات کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں