ریکوڈک پر ایک معاہدہ ہونے جارہاہے جو آئین کی خلاف ورزی ہے،نصراللہ زیرے
کوئٹہ:بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹے کی تاخیر سے قائم مقام سپیکر سردار بابرخان موسیٰ خیل کی زیر صدارت شروع ہوا۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے اختر حسین لانگو نے تحریک کا نوٹس دیتے ہوئے استدعا کی کہ قاعدہ225کے تحت مشترکہ قرار داد پیش کرنے کی بابت قاعدہ103(1)کے لوازمات کو معطل کیا جائے ایوان کی رائے سے قائم مقام سپیکر نے اختر حسین لانگو کو قرار داد پیش کرنے کی اجازت دی۔ قرار داد پیش کرتے ہوئے اخترحسین لانگو نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے وسائل جو ریکوڈک اور سیندک کے نام سے پہچانے جاتے ہیں یہ بلوچستان کے عوام کی ملکیت ہیں اور ان کی غربت کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کرنے کے ذرائع ہیں شنید میں آیا ہے کہ ریکوڈک کے وسائل سے بلوچستان کے عوام کو محروم کرنے کے غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور بلوچستان کے عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کے علم میں لائے بغیر بلوچستان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے جو بد ترین ظلم کے مترادف ہے لہٰذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ریکوڈک کے بارے میں حقائق سے متعلق اسمبلی میں ان کیمرا بریفنگ دی جائے مزید برآں اٹھارہویں ترمیم کے بعد ریکوڈک کے بارے میں وفاقی حکومت یا بین الاقوامی سطح پر کوئی بھی اقدام اور معاہدہ بلوچستان کے عوام کے بغیر قابل قبول نہیں ہے۔اپنی قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے اختر حسین لانگو نے کہا کہ اس حوالے سے گزشتہ روز اپوزیشن رہنماؤں نے پریس کانفرنس بھی کی جبکہ ماضی میں ریکوڈک اور سیندک سمیت بلوچستان کے معدنی وسائل کے حوالے سے متعدد قرار دادیں ایوان میں پیش اور منظور بھی ہوچکی ہیں کمیٹیاں بھی بنائی جاچکی ہیں ہمارے تحفظات صوبے کے تمام معدنی وسائل کے حوالے سے ہیں ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس اسلام آباد میں ہونے جارہا ہے شنید میں ہے کہ اس اجلاس میں ریکوڈک سے متعلق اہم فیصلہ اور دستخط ہونے جارہے ہیں وزیراعلیٰ سے توقع ہے کہ وہ ایسے کسی معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے جو بلوچستان کے وسائل کے حوالے سے ہوں اٹھارہویں ترمیم کے بعد وزیراعلیٰ کو چاہئے کہ وہ ایسے کسی بھی معاہدے سے قبل ایوان کو اعتماد میں لیں ایوان کو ان کیمرا بریفنگ دی جائے اور معاہدے کی تفصیلات سامنے لائی جائیں بند دروازوں کے پیچھے ہونے والے فیصلے قابل قبول نہیں ہوں گے انہوں نے کہا کہ ایسے کسی معاہدے کو نہ تو بلوچستان کے عوام اور نہ ہی ان کے منتخب نمائندے تسلیم کریں گے اٹھارہویں ترمیم کے بعد معدنی وسائل پر صوبے کا اختیار ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد پی پی ایل اور او جی ڈی سی ایل کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ معدنی وسائل سے بلوچستان کو اس کا پورا حصہ دیا جائے اس سلسلے میں ایوان کی کمیٹی بنا کر وفاق سے بات کی جائے اور اس حوالے سے بھی ایوان کو ان کیمرا بریفنگ دی جائے۔ اپوزیشن لیڈر ملک سکندرخان ایڈووکیٹ نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ریکوڈک اور سیندک منصوبے بلوچستان کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں بلوچستان کے عوام اور اس ایوان کو اعتماد میں لئے بغیر اگر اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کیا جارہا ہے تو وہ درست نہیں بلوچستان کو اللہ تعالیٰ نے قدرتی معدنیات سے نوازا ہے یہ وسائل بلوچستان کی ترقی پر خرچ ہونے چاہئیں سی پیک سے پہلے گوادر پھر بلوچستان اور پھر پورے ملک کو فائدہ ملنا چاہئے اسی طرح ریکوڈک اور سیندک کے منصوبوں سے بلوچستان کے عوام خوشحال اور صوبہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکتا ہے اگر صوبے کے عوام کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی فیصلہ کیا گیا تو وہ قابل قبول نہ ہوگا ایوان سے سیندک پر ایک کمیٹی بنائی گئی تھی اس کی رپورٹ بھی یہاں آنی چاہئے تھی انہوں نے زور دیا کہ ریکوڈک سمیت بلوچستان کی تمام معدنی وسائل پر بلوچستان کے عوام اور اس ایوان کو اعتماد میں لیا جائے جمعیت علماء اسلام کے یونس عزیز زہری نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ شنید میں ہے کہ آج کل میں بلوچستان کے وسائل کے حوالے سے اسلام آباد میں ایک معاہدہ ہونے جارہا ہے ہمارے معدنی وسائل کو وفاق میں بیچا گیا تو یہ ہمارے لئے بدقسمتی ہوگی ریکوڈک پر جو معاہدہ ہونے جارہا ہے اس کو فوری طو رپر منسوخ کرکے پہلے اس ایوان میں لایا جائے ایوان کو ان کیمرا بریفنگ دی جائے اگرمعاہدہ بلوچستان کے مفاد میں ہوا تو ہم خود اس پر دستخط کردیں گے پہلے یہی کچھ سیندک میں ہوا جس پر ہم آج تک افسوس کررہے ہیں بولان مائننگ سے خضدار کے عوام کو کچھ نہیں مل رہا۔ یہی خدشہ ہمیں ریکوڈک منصوبے سے بھی ہے۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصراللہ زیرئے نے کہا کہ 1950ء کی دہائی میں بلوچستان میں سوئی سے گیس دریافت ہوئی مگر آج تک ہمیں یہ علم نہیں کہ اس میں ہمارا حصہ کتنا تھا اور ہمیں کیا ملا اسی طرح ریکوڈک پر ایک معاہدہ ہونے جارہاہے جو آئین کی خلاف ورزی ہے ہمارے وسائل کو ہمارے عوام کو لاعلم رکھ کر بیچا جارہا ہے ریکوڈک پر جو معاہدہ ہونے جارہا ہے اس کو خفیہ رکھا جارہا ہے سابق دور میں اس سلسلے میں معاملات طے کئے گئے اور اب اس پر عمل کرایا جارہا ہے انہوں نے آئین کے مختلف آرٹیکلز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے وسائل پر پہلا حق صوبے کے عوام کا ہے بتایا جائے کہ ریکوڈک پر جو معاہدہ ہورہا ہے اس میں بلوچستان کا حصہ کیا ہوگا اور اس کی ملکیت کس کے پاس ہوگی۔انہوں نے استدعا کی کہ قرار داد منظور کرکے وفاق کو اس سے فوری طو رپر آگاہ کیا جائے۔


