ایک زمیاد گاڑی میں ڈیزل لانا اسمگلنگ نہیں،ایرانی بارڈر ہی مکران کی زندگی ہے،لالہ رشیددشتی
تربت(نمائندہ انتخاب) وزیر اعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے پی ایچ ای لالہ رشیددشتی نے تربت پریس کلب کے پروگرام گند ء ُ نند میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندے کی حیثیت سے کبھی بلند و بانگ دعوے نہیں کیے،اسمبلی میں جانے کا مقصد عوام کے مشکلات کو کچھ حد تک کم کرنا تھا، عمر کا زیادہ حصہ فٹ پاتھ پر نعرہ بازی کرتے گزارا، اس لیے عوام کے حقیقی مشکلات کا ادراک ہے، کوئی نواب، سردار یا اس قبیل کا آدمی نہیں بلکہ ایک عام سیاسی کارکن ہوں، عام لوگوں کی شب و روز سے واقفیت رکھتا ہوں، عوام کی بھلائی اور خوشحالی کے لیے کوشش کررہا ہوں، عوام کو معاشی اور کاروباری سہولیات کے لیے کام کیا، سابقہ حکومتوں نے یہاں ایسے ذرائع پیدا نہیں کیے کہ لوگ اپنے معاشی گزر بسر کرسکیں ایران سے ہماری معیشت کا پہیہ وابستہ ہے، ایک زمیاد گاڑی کی ڈیزل لانا اسمگلنگ نہیں ہے بلکہ روزی روٹی کمانے کا یہی ذریعہ ہے، ایرانی بارڈر سے مکران کی زندگی وابستہ ہے، انہوں نے کہا کہ مافیا یہاں زوروں پہ ہے اس لیے مافیا نے بارڈر اور تیل کے کاروبار پر اثر اندازی کی کوشش کی، انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کے ڈیمانڈ عوامی ہیں یہ ہمارے بھی مطالبات رہے ہیں، اس آواز کے ساتھ ہیں کیونکہ یہ آواز بلوچ اور بلوچستان کی آواز ہے ہم نے مولانا سے درخواست کی کہ اپنی آواز کی حفاظت کریں تاکہ یہ ہمیشہ بلوچ حقوق کیلئے بلند رہے، اسمبلی میں عوامی مسائل کے حل پر ہمیشہ کھڑا رہا اور عوام کی بات کی، جو لوگ ہم پر الزام تراشی کرتے ہیں ان کو اپنی کارکردگی سے جواب دیا ہے، انہوں نے کہا کہ حکومتی تبدیلی میں مکران کا بہت زیادہ رول رہاہے ہم پانچ اراکین نے کافی جدوجہد کی اور اپنے مقصد میں کامیاب رہے، مکران سے تعلق رکھنے والے 8حکومتی اراکین نے جو دباؤ اور پریشر برداشت کیا اسے کوئی نام نہاد قوم پرست برداشت نہیں کرسکتا، اقتدار اور وزارت کسی نے جھولی میں ڈال کر نہیں دیا، پارلیمانی لیڈر، پارٹی کے صدر اور وزیر اعلی کے خلاف کھڑے رہنا معمولی بات نہیں تھی، اس کا واحد مقصد اپنے عوام اور علاقے کے مقاصد کو مد نظر رکھ کر کیا گیا اس کے پیچھے جو دباؤ اور پریشر دیا گیا وہ ناقابل بیان ہے، اگر ہم میں سے کوئی ایک شخص پیچھے ہٹتا تو حکومت تبدیل نہیں ہوتی، انہوں نے کہا کہ جام کمال ہمارے لئے انتہائی قابل احترام ہیں وہ ایک سنجیدہ اور پڑھے لکھے شخصیت ہیں لیکن حکومت چلانے اور سیاست کرنے کا اپنا ایک ڈھنگ اور طریقہ کار ہوتا ہے اس میں سیاسی رویہ نہیں تھا اس لیے ساتھیوں کو لے کر چلنے میں ناکام رہے، قدوس بزنجو ایک عام شخص اور بلوچستان کی سیاست سے واقفیت رکھتے ہیں وہ بلوچستان کے مزاج کو بہتر سمجھ سکتے ہیں اس لیے امید ہے کہ وہ بہتر حکومت چلا پائیں گے، انہوں نے کہا کہ میرا حلقہ انتخاب بہت وسیع ہے، ہمارے پاس مسائل زیادہ اور وسائل بہت کم ہیں، سب لوگوں کو مطمئن رکھنا گوکہ ناممکن ہے مگر پہلی ترجیح بنیادی انسانی ضروریات کو یکساں ہر علاقے میں فراہم کرنا ہے اور اس پر کوشش کررہا ہوں، انہوں نے کہا کہ یہ المیہ ہے کہ میرے حلقے میں گزشتہ پندرہ سالوں میں عوامی یا علاقائی مفاد میں ایک روپے کا کام نہیں کیا گیا اس لیے علاقہ سب سے زیادہ پسماندہ، تعلیمی پسماندگی کا شکار، غربت اور صحت کے گھمبیر مشکلات کا شکار رہا ہے، میں نے اپنے علاقے میں جو ترقیاتی کام کیے ہیں وہ ظاہر ہیں عام لوگ ہماری اور سابقہ ادوار میں فرق محسوس کرسکتے اور ترقی ہوتا دیکھتے ہیں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بی اے پی کے مقابلے میں جو نام نہاد قوم پرست ہیں وہ اپنے کردار کا عوام کے سامنے احتساب کرائیں اگر عوام نے ان کے کردار پر انگلی نہ اٹھائی تو بی اے پی کے قیام کا کوئی مقصد نہیں ہے، بی اے پی کے قیام کا سبب ہی قوم پرستوں کی ناکامی اور عوام کے ساتھ دھوکہ بازی ہے آج بی اے پی نام نہاد قوم پرستوں کے سامنے اپنی کارکردگی کے باعث ایک بہترین پوزیشن میں ہے، انہوں نے اس موقع پر تربت پریس کلب کے لیے ایک لاکھ روپے کے علاوہ واش روم کی تعمیر کا اعلان کیا جبکہ آئندہ پی ایس ڈی پی میں تربت پریس کلب کے ہال کی منظوری کا اعلان بھی کیا، اس موقع پر حاجی رستم بزنجو، محراب دشتی، چیئرمین اسحاق دشتی، ملا منیر دشتی،صابرفدااور زاہد دشتیسمیت دیگر شخصیات ان کے ہمراہ تھے۔


