نیشنل پارٹی بطور اپوزیشن حکومت اور ینگ ڈاکٹرز کے درمیان ثالثی کیلئے تیار ہے، رحمت صالح بلوچ
کوئٹہ (ویب ڈیسک) نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر میر رحمت صالح بلوچ نے صوبے میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور صوبائی حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی عدم توجہ کے باعث یہ معاملہ اب سنگین بحران کی شکل اختیار کرچکا ہے جس سے صرف غریب ہی مشکل کا شکار ہورہے ہیں، فریقین موقف میں لچک پیدا کرکے بات چیت کا راستہ اختیار کریں۔ میر رحمت صالح بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن گزشتہ 3 ہفتوں سے احتجاج پر ہے۔ اس دوران صوبے بھر کے تمام سرکاری اسپتالوں میں او پی ڈیز مکمل طور پر بند ہیں۔ اس دوران حکومت کی جانب سے کسی مجاز شخص نے ڈاکٹروں سے رابطہ تک نہیں کیا نہ ہی احتجاج ختم کروانے کے لیے کوئی سنجیدہ کوش کی گئی جس سے معاملات مزید خرابی کی طرف گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب ینگ ڈاکٹرز نے احتجاجی ریلی نکالی اور ریڈ زون میں دھرنے کا اعلان کیا تو اسے روک دیا گیا اور مجبوراً ڈاکٹروں نے تمام سروسز کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے جس پر قدغن نہیں لگایا جاسکتا۔ میر رحمت صالح بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر فوری طور پر ڈاکٹرز کمیونٹی کے نمائندوں سے مذاکرات کرے ان کے خدشات سنے اورجائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران بعض ڈاکٹروں کے رویے اور لہجے پر افسوس ہوا اس قسم کی زبان کا استعمال ایک مسیحا کے شایان شان نہیں۔ انہوں نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سے تمام سروسز کے بائیکاٹ کے فیصلے پر فوری نظرثانی کرنے کی درخواست کی تاکہ غریب مریضوں کو ریلیف مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی بطور اپوزیشن حکومت اور ڈاکٹرز کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ جلد از جلد حل ہو تاکہ اسپتال دوبارہ کھلیں اور عوام کو علاج ملے۔


