ایک نظر مشکے پر
تحریر: عطاء الرحمن بلوچ
آواران کا خوبصورت مگر پسماندہ تحصیل ہے۔ جو قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے چاروں طرف بلند و بالا پہاڑ ان پہاڑوں کے اندر بہتے ہوئے چشمے سر سبز قدرتی درخت، اور ساتھ ہی کھجوروں کے خوبصورت باغات اس دھرتی کی شناخت زرخیزی اور خوشحالی کی روشن علامت ہیں۔ ہر سمت پر قدرتی سر سبز درخت مہکتی ہوا پرندوں کی دلنشیں چہچہاہٹ چاروں طرف بلند پہاڑ قدرت کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں۔ مشکے کے حسین اور دلکش منظر کو دیکھ کر دل کو سکون روح کو تازگی ملتی ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے قدرت نے جس سرزمین کو بے مثال حسن ، وسیع میدانوں اور بلند پہاڑوں سے نوازا، وہی سرزمین آج بھی بنیادی انسانی سہولیات سے محروم ہے۔ تعلیم، صحت، سڑکیں، اور دیگر ضروریات آج بھی مشکے کے عوام کے لئے خواب بنی ہوئی ہیں۔ غریب عوام کو ہسپتال میں ایک پیناڈول کی گولی تک میسر نہیں، یہ محرومی وسائل کی کمی کا نتیجہ نہیں، بلکہ برسوں سے سیاسی نمائندوں کی عدم توجہی کا واضح ثبوت ہے۔ مشکے کے ہسپتال کی موجودہ صورتحال یہ ہے۔ غریب اور بے بس عوام کو پیناڈول کی گولی تک میسر نہیں۔ اپنڈکس جیسے معمولی بیماری اور زچگی جیسے طبی سہولیات کا فقدان ہے۔ جسکی وجہ سے قیمتی جانیں بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہیں۔ ہسپتال کی حالت زار اس طرح ہے صرف عمارت تک محدود ہے۔ نہ ادویات دستیاب ہیں نہ طبی آلات، ایسے ہسپتال عوام کے لئے شفا کا نہیں بلکہ بے بسی اور مایوسی کی علامت بن جاتے ہیں۔ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق اور ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ مشکے میں بھی ایسی بستیاں موجود ہیں۔ جہاں ایک بھی پرائمری اسکول قائم نہیں، ان میں سے ایک پھگڑ ہے، پھگڑ میں 100 سے زائد بچے بچیاں آباد ہیں۔ آج تک وہاں بھی ایک پرائمری اسکول قائم نہیں کیا گیا۔ یہ صرف ایک گاؤں کی محرومی نہیں۔ بلکہ ان معصوم بچوں کے خوابوں اور مستقبل سے ناانصافی ہے۔ غربت نے ان کے والدین کو اس قدر بے بس کر دیا ہے۔ کہ وہ اپنے بچوں کو کوئٹہ یا کراچی کے نجی اسکولوں میں داخل کروانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ تعلیم کی بجائے مجبوری ان بچوں کا مقدر بن چکی ہے۔ ہر صبح کتابیں اور بستہ اٹھانے کے بجائے، یہ معصوم بچے صبح اپنے والدین کے ساتھ کھیتوں پر چلے جاتے ہیں۔ جہاں وہ اپنے والدین کے ساتھ گندم کاٹتے اور پیاز لگاتے ہیں۔ یہ وہ عمر ہے۔ ان کے ہاتھوں میں قلم ہونا چاہیے۔ مگر حکمرانوں کی عدم توجہی نے ان کے ہاتھوں میں کدال تھما دی ہے۔ قدرت نے ہمارے علاقے کو ایسی زرخیز سرزمین عطا کی ہے۔ جہاں کھجوروں کے بے شمار درخت ہیں۔ ہر سال اعلی معیار کی مختلف اقسام کی کھجوریں پیدا کرتے ہیں۔ یہ کھجور کے خوبصورت باغات نہ صرف علاقے کی پہچان ہیں۔ بلکہ ہزاروں خاندانوں کے روزگار کا بھی ذریعہ ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے۔ کہ جدید سرد خانے کی عدم موجودگی کے باعث ہر سال قیمتی کھجوروں کا بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ کسان اپنی محنت کا پھل حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ کھجوروں کو زیادہ عرصہ محفوظ نہیں رکھ سکتے اور مجبوری میں کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اگر حکام بالا اس علاقے میں جدید کولڈ اسٹوریج قائم کریں۔ تو کھجوروں کو طویل عرصے تک محفوظ رکھا جا سکے گا۔ زمیندار اپنے کھجوروں کو مناسب وقت پر منڈیوں تک پہنچا سکیں گے۔ انہیں بہتر قیمت ملے گی۔ مشکے زرعی لحاظ سے نہایت اہم ہے جہاں ہزاروں خاندانوں کا روزگار پیاز کی کاشت سے وابستہ ہے۔ زمیندار دن رات محنت کر کے اپنی فصل تیار کرتے ہیں۔ مگر گزشتہ 3 سال سے پیاز کی فصل ایک خطرناک بیماری کا مسلسل شکار ہو رہی ہے۔ اس بیماری نے نہ صرف فصلوں کو تباہ کیا۔ بلکہ کسانوں کی برسوں کی محنت امیدوں اور جمع پونجی کو بھی خاک میں ملا دیا۔ کئی زمیندار لاکھوں روپے کے نقصان سے دو چار ہوئے بعض قرض کے بوجھ تلے دبئے ہوئے ہیں۔ اور کئی خاندان آج تک مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ اس نازک حالت میں محکمہ زراعت نے کوئی مدد نہیں کی۔ جس کی زمینداروں کو اشد ضرورت تھی۔ نہ بروقت کھیتوں کا معائنہ کیا گیا۔ نہ بیماری کی وجوہات جاننے کی سنجیدہ کوشش ہوئی، نہ موثر رہنمائی فراہم کی گئی۔ اور نہ ہی زمینداروں کی مالی معاونت کی گئی۔ زمیندار اپنی تباہ ہوئی فصلوں کو بے بسی سے دیکھتے رہے، جبکہ متعلقہ اداروں کی خاموشی ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے، محکمہ زراعت کے زمہ داران سے پر زور مطالبہ ہے۔ کہ پیاز کی اس بیماری کی سائنسی بنیادوں پر فوری تحقیق کرائی جائے، زرعی ماہرین کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں بھیجی جائیں، زمینداروں کو جدید زرعی رہنمائی معیاری ادویات اور بیماری سے محفوظ بیج فراہم کئے جائیں اور جن زمینداروں کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ انہیں مناسب مالی معاوضہ دیا جائے۔ حکام بالا سے التجا ہے۔ مشکے کی دہائیوں پر محیط محرومیوں کا ازالہ کیا جائے۔ تاکہ یہاں کے لوگ بھی باوقار اور بہتر زندگی گزار سکیں۔


