اسمبلی سے قرار داد منظور ہونے کے باوجود سکالرشپ کا مسئلہ حل نہ ہو سکا، کمیٹی عہدیدار

کوئٹہ:ایچ ای سی سکالرشپ بحالی کمیٹی کے عہدیدار عمیر چھلگری نے کہا ہے کہ 2013سے 2017تک بلوچستان کے میڈیکل اور انجینئرنگ کے طلباء کو وفاقی کی جانب سے ملک بھر کے میڈیکل کالجز اور انجینئرنگ یونیورسٹیز میں سکالرشپ پر داخلے دیئے گئے جووفاق کی جانب سے بہتر فیصلہ تھا لیکن 2019میں اس سلسلے کو معطل کیا اسمبلی سے اس حوالے سے قرارداد بھی منظور کیا لیکن آج تک سکالرشپ کا مسئلہ حل نہ ہوسکا جس سے ہزاروں طلباء سکالرشپ کھلنے کے منتظر ہیں ان خیالات کااظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر مختلف سٹوڈنٹس لیڈر بھی موجود تھے عمیر چھلگری کا کہنا تھا کہ میں کہنا چاہتا ہوں کہ سکالرشپ کے تحت 265میڈکل 37انجینئرنگ اور5سو سکالرشپ شامل ہیں انہوں نے وزیراعظم عمران خان،وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو سے مطالبہ کیا کہ اس کا نوٹس لیتے ہوئے سکالرشپ کو دوبارہ بحال کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں