بلوچستان کے حقوق پرسب سے بڑا ڈاکہ جعلی ڈومیسائل ہے،جمہوری وطن پارٹی

لسبیلہ:جمہوری وطن پارٹی کے سابق مرکزی سیکرٹری جنرل و بلوچ بزرگ رہنماء رؤف خان ساسولی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے حقوق پرسب سے بڑا ڈاکہ اور نوجوانوں کی حلق تلفی جعلی ڈومیسائل ہے وفاقی اداروں میں بلوچستان کے نوجوانوں کی حق تلفی ہو رہی ہے سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ بلوچستان ہاؤس میں بلوچستان کی رنگت کئی نظر نہیں آرہی ہے وزیر اعلیٰ کم ازکم بلوچستان ہاؤس میں بلوچستان کی رنگت لانے کی کوش کرے انھوں نے کہا کہ جعلی ڈومیسائل کے حوالے سے حزب اختلاف کی کارگردگی دور دورتک نظر نہیں آرہا اور حکومت کرنے والے بیچارے اپنے تخت کو بچانے میں مصروف ہیں جعلی ڈومیسائلوں کے مسئلے اور معاملات پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے جن ڈپٹی کمشنروں نے جعلی ڈومیسائل جاری کئے ہیں ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی ہونی چاہئے اور جو لوگ جعلی ڈومیسائلوں پرملازمتیں کر رہے ہیں ان کے خلاف بھی کاروائی ہونی چاہئے ساسولی نے کہاکہ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ وفاقی اداروں میں بلوچستان کے لوگ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں اس کے باوجو د PSO،این آئی سی ایل،انشورنس اور گیس کی کمپنیوں جو کارپوریشن ہیں ان سب میں بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ ظالمانہ رویہ رکھا جارہا ہے اور انہیں نت نئے ہتھکنڈوں سے تنگ کیاجارہا ہے اور بلوچستان کے MNAsاور سینیٹرز ان کارپوریشنوں کے اسٹیڈنگ کمیٹیوں کے ممبر ہیں لیکن کی بات ہے کہ وہ اپنے لوگوں کے ساتھ ہونے والے ظلم سے بے خبر ہیں انھوں نے کہاکہ CDAاسلام آباد میں کئی سالوں سے بلوچستان کے لوگوں کو نہ پروموشن دی جارہی ہے اور نہ ہی انکے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہے اور75سالوں سے بلوچستان کے نوجوانوں کی حق تلفی کی جارہی اور ان سے زیادتی ہوتی آرہی ہے موجودہ دور حکومے میں 3سے5سال کے کنٹریکٹ پر کارپوریشنوں کے CO،چیئرمین،اور سربراہان کو غیر مشیروں نے رکھا ہے اور انھوں نے لوٹ مار اور زیادتیوں کی انتہا کردی ہے ہم ہمیشہ سے کہتے آرہے ہیں کہ DMGگروپ کے کئی 21/20گریڈ کے افسران اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن میں میں آرام کر رہے ہیں ان میں سے کارپوریشنوں کیلئے چیئرمین،سی او اور ایم ڈی لگائے جائیں تاکہ انہیں اپنے سروس اور پنشن کا خیال ہو کیونکہ مشیروں کے رکھے کنٹریکٹ پر رکھے گئے سربراہان مشیروں کا خیال رکھتے ہیں اور اداروں کیلئے نہ کام کرتے ہیں اور نہ ہی کردار ادا کرتے ہیں اداروں کو تباہی سے بچانے کیلئے سینیٹرز اور MNAsحضرات اپنا کردار ادا کریں کیونکہ اس وقت ملک ایسی صورتحال گزر رہا ہے اسے اندرونی معاملات درپیش ہیں ملک کی بہتری کیلئے انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں اور کے حق تلفیاں ختم ہونی چاہئے ساسولی نے کہاکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے بلوچستان کے حقوق کے حوالے سے دعوے اپنی جگہ پر ہے اور انکا سوچ بھی اچھا ہے لیکن بلوچستان ہاؤس اور قومی اداروں میں بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا نوٹس لیں انھوں نے کہاکہ غیر منتخب مشیروں نے ملک میں اندھیرنگری مچھا یا ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں