بلوچستان میں وراثتی سرٹیفکیٹ کے اجراء کو سہل بنانے کیلئے قانون سازی کی جارہی ہے،ربابہ بلیدی

کوئٹہ: پارلیمانی سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں وراثتی سرٹیفکیٹ کے اجراء کو سہل بنانے کے لئے قانون سازی کی جاررہی ہے اور ورثاء کی جانب سے در خواست جمع کرنے کے چودہ روز کے اندر ضروری کارروائی کی تکمیل اور بائیو میٹرک تصدیق کے بعد وراثتی سرٹیفکیٹ جاری کردیا جائیگا یہ بات انہوں نے جمعہ کو یہاں محکمہ قانون کی جانب سے بلوچستان لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سیکسیشن سرٹیفکیٹ بل 2021 سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری لاء (لیجیسلیشن) شوکت علی ملک، ڈپٹی سیکرٹری قانون وسیم شاہد، ایڈیشنل سیکرٹری مشتاق احمد نے مسودہ قانون کے چیدہ نقطات سے متعلق بریفنگ دی، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کے حالات، زمینی حقائق، روایات، شرح خواندگی، قانونی امور کی آگاہی کی شرح دیگر صوبوں سے قطعی مختلف ہے اس لئے ایسی قانونی سازی کی تشکیل ضروری ہے جو یہاں کے لوگوں کے مسائل کے حل میں معاون ثابت ہو انہوں نے کہا کہ سیکسیشن سرٹیفیکٹ اور لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن کے اجراء کے لئے قانون سازی وقت کی ضرورت ہے وراثت کے معاملات میں شرعی احکامات کو مدنظر رکھ کر قانون سازی کی جائیگی تاکہ تشکیل کردہ قوانین میں شرعی احکامات سے متصادم کوئی بات نہ ہو انہوں نے کہا کہ وراثتی سرٹیفکیٹ اور لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن کے اجراء کی بائیو میٹرک تصدیق کے لئے بیرون ملک سے بھی سفارت خانے کے ذریعے تصدیق کا عمل ممکن ہوگا، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے محکمہ قانون کے حکام کو ہدایت کی کہ حتمی مسودہ قانون سے قبل اس کا موازنہ دیگر صوبوں کے قوانین سے کرلیا جائے اور ہر طرح کے ابہام دور کرکے اسے ہر طرح سے جامع بنایا جائے،

اپنا تبصرہ بھیجیں