بلوچستان میں حالات تیزی سے ابتری کی طرف جا رہے ہیں مشکلات کے باوجود راستہ نکالنا ہوگا، ڈاکٹر مالک

تربت۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں حالات تیزی سے ابتری کی طرف جا رہے ہیں، سیاست آزاد نہیں، عدلیہ آزاد نہیں اور صحافت بھی آزاد نہیں، تاہم ان تمام مشکلات کے باوجود ہمیں راستہ نکالنا ہوگا۔ بلوچستان میں وزیرستان طرز کے کسی بھی آپریشن کے بلوچ سماج پر منفی اور تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات انتہائی نازک اور گھمبیر ہوچکے ہیں، شاہراہیں بند، سڑکیں غیر محفوظ، بھتہ خوری کا سلسلہ جاری اور مجموعی طور پر جنگی کیفیت ہے جبکہ سیاسی اور معاشی صورتحال بھی ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز تربت پریس کلب کے دورے کے موقع پر منعقدہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنے دورے کے دوران اپنے فنڈز سے زیر تعمیر تربت پریس کلب کی نئی عمارت اور بی ایس ڈی آئی فنڈز سے تعمیر و تزئین و آرائش کیے گئے آڈیٹوریم کا معائنہ کیا۔اس موقع پر تربت پریس کلب کے صدر حافظ صلاح الدین سلفی نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو آڈیٹوریم اور زیر تعمیر نئی عمارت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے پریس کلب کی سالانہ گرانٹ میں اضافے اور پریس کلب کی ہاو¿سنگ اسکیم کی منظوری کے لیے تعاون کی درخواست کی۔حافظ صلاح الدین سلفی نے کہا کہ تربت پریس کلب کے لیے یہ باعث خوش بختی ہے کہ انہیں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ جیسا مخلص اور ایماندار نمائندہ میسر ہے جو گزشتہ سال خود پریس کلب آئے اور نئی عمارت کی تعمیر کے لیے فنڈز مختص کرنے کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں عمارت اب تکمیل کے مراحل میں داخل ہوچکی ہے۔ جبکہ یہ آڈیٹوریم پریس کلب کو دلانے کے لیے بھی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے خصوصی دلچسپی لی اور میئر تربت بلخ شیر قاضی کو ہدایات جاری کیں جس کے بعد بی ایس ڈی آئی کے ذریعے آڈیٹوریم کی تعمیر و تزئین و آرائش مکمل کی گئی ہے۔جبکہ سینیٹر جان محمد بلیدی نے بھی ڈیجیٹل اسٹوڈیو کے قیام کیلئے 40لاکھ روپے کے فنڈز جاری کرائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تربت پریس کلب ایک فعال ادارے کے طور پر عوامی مسائل اور مشکلات کو اجاگر کرنے، ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ اور معاشرے کی آواز متعلقہ حکام تک پہنچانے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 20، 22 سال سے بلوچستان اور بلوچ سماج مختلف مشکلات میں گھرا ہوا ہے اور اب صورتحال انتہائی نازک ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ چار لاشیں نہ گریں اور چار نوجوان نہ اٹھائے جائیں۔ وزیرستان طرز کے آپریشن سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ اس نوعیت کے آپریشن کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، تاہم بلوچ سماج پر اس کے تباہ کن اثرات ضرور مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ خدا بلوچستان میں ایسا دن نہ لائے کہ بلوچ اپنے ہی گھروں میں آئی ڈی پیز بن جائیں لیکن حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں، ان میں بہتری کی امید کم اور صورتحال مزید ابتر ہوتی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ فریقین بات چیت کیلئے تیارنہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ بارڈر کی بندش سے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے ہیں اور بلوچستان کی معیشت شدید دباو¿ کا شکار ہے۔ شاہراہوں کی بندش، سڑکوں کا غیر محفوظ ہونا، بھتہ خوری اور بدامنی نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ سیاسی صورتحال کے ساتھ معاشی حالات بھی خراب ہیں۔نیشنل پارٹی کے قائد نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے ہمیشہ شخصیات کے بجائے اداروں کی مضبوطی پر توجہ دی ہے۔ تعلیمی ادارے، ادبی و ثقافتی ادارے، پریس کلب اور دیگر سماجی ادارے کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتے ہیں۔ کوئی بھی قوم مضبوط اداروں کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی۔ انہوں نے تربت پریس کلب کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ پریس کلب کی جانب سے جو ذمہ داری سونپی جائے گی، اسے پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے تربت پریس کلب کی ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے آئندہ بجٹ میں ایک کروڑ روپے مختص کرانے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ صحافت میں نئے اور نوجوان افراد کو آگے آنے کے مواقع فراہم کیے جائیں، تحقیقی صحافت کو فروغ دیا جائے اور صحافیوں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے تربیتی پروگراموں پر توجہ دی جائے۔اس موقع پر نیشنل پارٹی کے رہنما کہدہ اکرم دشتی، واجہ ابوالحسن، واجہ ملا برکت بلوچ، ڈاکٹر محمد نور بلوچ، قاسم گاجی زئی ایڈووکیٹ،حاجی شوکت دشتی، ضلعی صدر یونس جاوید، جنرل سیکرٹری سرتاج گچکی، بی ایس او پجار کے چیئرمین بوہیر صالح سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں