جو حکومت پمز نہیں سنبھال سکتی، وہ کراچی، گوادر اور گلگت بلتستان کو اسلام آباد سے کنٹرول کرنے کے دعوے کیسے کرسکتی ہے؟ مولانا واسع

کوئٹہ (آن لائن) جمعیت علماءاسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ حکومت بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ، شہریوں کی جان و مال اور صحت کی سہولیات کی فراہمی میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے، پمز ہسپتال کا دل خراش واقعہ حکومتی و انتظامی ناکامی کی ایک انتہائی سنگین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے صوبے کے برابر بجٹ رکھنے والے اس اہم وفاقی ہسپتال میں بھی اگر عوام کو علاج، تحفظ اور انسانی وقار کے بجائے غفلت، بے حسی اور بنیادی حقوق کی پامالی کا سامنا ہو تو یہ محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ ذمہ داریوں سے سنگین انحراف ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر ایسے افسوسناک واقعات کا رونما ہونا اب معمول بنتا جارہا ہے، جو حکومت کی کارکردگی اور اداروں میں موجود جوابدہی کے فقدان پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جو حکومت پمز جیسے اہم اور وسائل سے مالا مال ہسپتال کا انتظام و انصرام م¶ثر انداز میں نہیں سنبھال سکتی، وہ کراچی، گوادر، گلگت بلتستان اور ملک کے دیگر دور دراز علاقوں کو اسلام آباد سے کنٹرول کرنے اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے دعوے کیسے کرسکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس دل خراش واقعے کے بعد وزیر صحت سمیت متعلقہ ذمہ دار انتظامی حکام اور غفلت کے مرتکب عملے کو فوری طور پر برطرف کیا جانا چاہیے تھا تاکہ یہ واضح ہوتا کہ انسانی جانوں سے کھیلنے اور بنیادی حقوق کی پامالی پر کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داران کا تعین کرکے ان کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی کی جائے اور پمز سمیت تمام سرکاری ہسپتالوں میں م¶ثر نگرانی، انتظامی اصلاحات اور واضح نظامِ جوابدہی قائم کیا جائے۔ مولانا عبدالواسع نے واقعے پر گہرے دکھ اور دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندان کے لواحقین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں؛ ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کی جان، عزت، صحت اور انسانی حقوق کا تحفظ ہے اور اس ذمہ داری میں کسی بھی سطح کی غفلت کو محض رسمی تحقیقات یا بیانات کے ذریعے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں