بجلی کی بلوں میں صارفین سے کم سے کم ٹیکس 21 فیصد وصول کررہے ہیں، چیئرمین نیپرا

اسلام آبا د:چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی نے کہا ہے کہ بل میں کم سے کم ٹیکس بھی اگر صارفین سے لے رہے ہیں تو وہ 21 فیصد ہے۔ بجلی بل پر زیادہ سے زیادہ ٹیکسز کی شرح 29 فیصد ہے۔ وزارت خزانہ سے کہا ہے کہ مہربانی کریں یہ کوئی ٹیکس اکٹھا کرنے والا ادارہ نہیں۔وزیر خزانہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ معاملے پر غور کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق چئیرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی کی صدارت میں نیپرا سماعت پر معاملہ زیر بحث آیا۔ اس موقع پر چیئرمین نیپرا نے کہا بل میں کم سے کم ٹیکس بھی اگر صارفین سے لے رہے ہیں تو وہ 21 فیصد ہیں۔ بجلی بل پر زیادہ سے زیادہ ٹیکسز کی شرح 29 فیصد ہے۔ وزیر خزانہ سے ملاقات میں یہ معاملہ اٹھایا تھا۔ انہوں نے کہا وزارت خزانہ سے کہا ہے کہ مہربانی کریں یہ کوئی ٹیکس اکٹھا کرنے والا ادارہ نہیں۔ وزیر خزانہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس معاملے پر غور کریں گے۔ وزارت توانائی حکام نے کہا بجلی کی قیمتوں میں ردوبدل کا فیز ٹو لارہے ہیں۔ فیز ٹو کا مقصد آئی پی پیز ریموول اور سسبڈی کا خاتمہ ہے۔ 20 ارب روپے کی سبسڈی ختم کرنے کیلئے درخواست دی ہے۔ حکام نے بتایا فیز ٹو میں 20 ارب کی سبسڈی ختم ہونے کے باجود 177 ارب کی سبسڈی جاری ہے۔ وزارت توانائی حکام نے کہا فیز ون کا نوٹیفکیشن اکتوبر میں ہو گیا تھا صارفین پر ایک دم بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے۔ پروٹیکٹڈ صارفین پر نئی قیمتوں کا بوجھ نہیں پڑے گا۔ 0 سے 200 یونٹس تک کوئی صارف 6 ماہ تک بجلی استعمال کرے گا تو وہ پروٹیکٹڈ ہے۔ چیئرمین نیپرا نے کہا بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے کی حکومتی درخواست کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعدفیصلہ جاری کریں گے۔ انہوں نے کہا جس صارف کا بل بڑھے گا وہ کونسا اچھا محسوس کرے گا۔ ہم نے بجلی پیداوار کے لیے عالمی مارکیٹ سے ایندھن خریدنا ہے۔ ایندھن کی قیمت میں اتارچڑھاو کوصارفین پر ہی منتقل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا اگر ہم ٹیکسز کو ختم نہیں کرتے کم کرتے ہیں تو صارفین کو ریلیف ملے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں