نواز شریف کی طبی رپورٹس کا جائزہ لینے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل

لاہور: حکومت پنجاب نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی رپورٹس کا جائزہ لینے کے لئے میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت کے قائم کردہ میڈیکل بورڈ کو نواز شریف کی صحت سے متعلق نئی دستاویز بھجوا دی گئی ہیں۔ امریکی ڈاکٹر فیاض شال نے نواز شریف کی صحت سے متعلق لاہور ہائی کورٹ میں 28 جنوری کو نئی دستاویز جمع کروائی تھیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے گذشتہ روز بھیجے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ نئی دستاویزات پر بورڈ سے رائے لی جائے۔ اٹارنی جنرل آفس کے لیٹر پر محکمہ داخلہ پنجاب نے دستاویزات محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کو بھجوائیں۔ سیکرٹری اسپیشلائزڈ نے ہیلتھ ہائی کورٹ میں جمع ہونے والی دستاویزات میڈیکل بورڈ کو بھیجوائیں۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق 9 رکنی بورڈ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کے جائزے سے متعلق 5 دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی وطن واپسی کے معاملے پر اٹارنی جنرل آفس نے ہوم سیکرٹری پنجاب کو خط لکھا، خط میں لاہور ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی نواز شریف کی صحت سے متعلق دستاویزات پنجاب میڈیکل بورڈ کو دینے کی ہدایت کی گئی۔ خیال رہے کہ تین روز قبل سابق وزیراعظم نواز شریف کی تازہ ترین طبی رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں پیش کر دی گئی تھی۔سابق وزیراعظم نواز شریف کی تازہ ترین طبی رپورٹ ڈاکٹر فیاض شال کی جانب سے تیار کی گئی۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق نواز شریف کو سفر کرنے سے روک دیا ہے۔ نواز شریف اینجیو گرافی کے بغیر لندن سے پاکستان نہ جائیں۔ رپورٹ کے مطابق نواز شریف اگر علاج کے بغیر لندن سے پاکستان چلے گئے تو اب کی حالت بگڑ سکتی ہے۔ نواز شریف اس وقت شدید ذہنی دبا میں ہیں۔ذہنی دبا کی وجہ سے نواز شریف کی بیماری مزید بگڑ سکتی ہے۔ میڈیکل رپورٹ میں کہا گیا کہ نواز شریف کو ائیرپورٹ اور عوامی مقامات پر ہرگز نہیں جانا چاہئیے۔ جب تک نواز شریف کی کارنری اینجیو مکمل نہ ہو اسپتال سے دور نہ جائیں۔ ڈاکٹر فیاض شال کی میڈیکل رپورٹ میں کہا گیا کہ کورونا اور مختلف امراض کی وجہ سے نواز شریف کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔ نواز شریف اس وقت اسٹریس کا شکار ہیں، بغیر علاج واپس جا کر قید کاٹنا اور بیوی کے انتقال کا صدمہ ان کا مرض بڑھا سکتا ہے۔ میڈیکل رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نواز شریف کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ جب تک نواز شریف مکمل ٹھیک نہ ہو جائیں سفر نہ کرنے کی تجویز ہے۔ گذشتہ رپورٹ میں سفر نہ کرنے کی سفارش اب بھی برقرار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں