سول ایوی ایشن کی پاکستان کی نجی ایئرلائنز سے متعلق پالیسی پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں، سلیم مانڈوی والان
سلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈی والا نے کہا ہے کہ سول ایوی ایشن کی پاکستان کی نجی ایئرلائنز سے متعلق پالیسی پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں، ملک میں نجی ایئرلائنز کے ساتھ دہرا معیار کسی صورت قابل قبول نہیں، غیر ملکی ایئرلائنز اور پاکستان کی نجی ایئرلائنز کے ساتھ رکھا جانے والے رویے میں فرق واضح ہے۔اپنے بیان میں سلیم مانڈوی والا نے کہاکہ ملک کی نجی ایئر لائنز کے ساتھ رکھا جانے والا رویہ قابل افسوس ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جو طریقہ کار غیر ملکی ایئرلائنز کے ساتھ ہے وہی طریقہ کار مقامی ایئرلائنز کے ساتھ بھی رکھا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنی خودمختاری اور ایئر اسپیس کا تحفظ کرنا چاہئے، غیر ملکی ایئرلائنز کے لئے وہ سہولیات اور آسانیاں پیدا کی جا رہی ہیں جو سہولیات اپنی ملکی نجی ایئرلائنز کے لئے میسر نہیں۔انہوں نے کہاکہ غیر ملکی ایئرلائنز کی بجائے ہمیں اپنی ملکی نجی ایئرلائنز کو بچانے اور تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں غیر ملکی ایئرلائنز کو مقامی ایئر لائنز کے لائسنس کا غلط استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ایمیریٹس ایئرلائنز کی کراچی کے لئے روزانہ پانچ فلائیٹس ہیں جبکہ پی آئی اے کی کراچی سے دبئی کے لئے روزانہ کوئی فلائیٹ تک نہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں غیر ملکی ایئرلائنز کو لوکل ایئر کے ذریعے پاکستان آنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے،نجی ایئرلائنز کے تحفظات کو فوری طور پر حل کیا جائے۔


